Al-Risala · November 2025 · page 12

رسول کو ماننا

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۲

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰى اَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ (3:144)۔ یعنی، محمد تو صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ عطا فرمائے گا۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد 2، صفحہ 249)۔

کچھ لوگ وہ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حیثیت سے پہچانتے ہیں کہ انھوں نے دنیا کو فتح کیا۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو آپ کو اس حیثیت سے پہچانتے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ حقیقی مومن وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد، مبشر اور نذیر کے روپ میں پہچانے۔ جو لوگ آپ کو فاتح کے روپ میں پہچانیں ان کی پہچان صرف مؤرخ کی پہچان ہے، نہ کہ مومن کی پہچان۔ فقدانِ معرفت کا دور ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، جس میں بعد کے زمانے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے: وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا اَعْقَلَهُ وَمَا اَظْرَفَهُ وَمَا اَجْلَدَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ اِيْمَانٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6497؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 143)۔ یعنی کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page