انسان کا مقصد تخلیق
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۷
اس تفسیر کے مطابق غور کیا جائے، تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اصلا یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے ۔ کائنات میں سب کچھ تھا، لیکن خود شعوری کا ظاہر ہ (phenomena) موجود نہ تھا۔ خالق نے چاہا کہ یہاں ایک ایسی مخلوق پیدا ہو، جو شعور کی صلاحیت رکھنے والی ہو۔ انسان کی ساخت اس تفسیر کی تائید کرتی ہے۔ کیوں کہ انسان کو جن صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وہ اس تفسیر کے ساتھ پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔
انسان کی شخصیت کا مطالعہ کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ماڈل اسی مقصد کے مطابق بنایا گیا ہے۔ انسان گویا اس بات کی پوری صلاحیت رکھتا (well equipped) ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کرے۔ خالق کی دریافت کے سوا انسان کا کوئی اور مقصد وجود نہیں۔ قرآن کی اس آیت پر مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً اللہ رب العالمین کو یہ مطلوب تھا کہ کائنات میں ایک ایسی مخلوق ہو، جو سیلف ڈسکوری (self discovery) کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرے، اور پھر اس خود در یافت کردہ معرفت کی سطح پر وہ کھڑا ہو۔ یعنی ایک ایسی مخلوق جو اپنی ذاتی دریافت کی بنیاد پر یہ اعلان کرے کہ خدا یا ـــــ تو خالق ہے، میں مخلوق ہوں، تو دینے والا (giver) ہے، اور میں پانے والا (taker) ہوں، تو واجد (Originator) ہے، اور میں موجود(created being) ہوں۔
خالق کو یہ مطلوب تھا کہ ایک ایسی مخلوق ہو، جو اس حقیقت اعلیٰ کو شعوری دریافت کے ذریعہ جانے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ایک ایسی مخلوق جو قادر مطلق خدا کے مقابلے میں شعوری طور پر اپنے عجز مطلق کی دوسری انتہا (extent) بنائے ۔ یہی انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔ یہ انسان کی ترقی کا آخری درجہ ہے۔ جو لوگ شعوری ارتقا کے اس درجے تک پہنچیں، اور اس دریافت کے مطابق، دنیا میں زندگی گزاریں، وہی وہ لوگ ہیں، جو جنت میں آباد کاری کے لیے چنے جائیں گے ۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اسی عارف مخلوق کا نام انسان ہے، اور دریافت خویش کے اس درجے تک پہنچنے کا نام معرفت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues