Al-Risala · November 2025 · page 18

شیطان کا مقابلہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۸

شیطان کا مقابلہ

قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ اس کے مطابق ، یہ ہوا کہ شیطان آغاز ہی میں انسان کا دشمن بن گیا۔ اس نے اعلان کیا کہ میں انسان کو بہکاؤں گا اور اس کو جنت کے راستے سے دور کر دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو آزادی دے دی ، لیکن اسی کے ساتھ یہ فرمایا : اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (15:42) _ یعنی، جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ قرآن کی اس آیت میں سلطان کا مطلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین کی رائے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اِنَّ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ لَا قُوَّةَ عَلَيْهِمْ فِي إِضْلَالِهِم (صفوة التفاسير للصابوني، جلد 2، صفحہ 101) _ یعنی، تم کو یہ قدرت حاصل نہیں ہوگی کہ تم میرے مومن بندوں کو گمراہ کر سکو۔ یہاں یہ سوال ہے کہ مومن بندے کس طرح شیطان کے وسوسہ اور تزئین سے محفوظ رہیں گے۔ یہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق دراصل اہل ایمان کی ذہنی بیداری سے ہے۔ اسی ذہنی بیداری (intellectual awakening) کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسہ اور تزئین کو فوراً پہچان لیتا ہے اور اس کوڈی فیوز کر کے اس کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جو لوگ تقویٰ والے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے (7:201)۔

ڈی فیوز (defuse) کا لفظ اس معاملے کو اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو بم بنائے جاتے ہیں ۔ ان کے اندر دھما کہ خیز مادے کے علاوہ ایک باریک تار لگا ہوتا ہے۔ جس کو فیوز (fuse) کہتے ہیں۔ اس فیوز میں آگ لگنے سے بم میں دھما کہ ہوتا ہے۔ پولیس جب کسی بم کو ناکارہ بنانا چاہتی ہے تو وہ یہ کرتی ہے کہ مخصوص تکنیک کے ذریعے اس کے فیوز کو نکال دیتی ہے۔ اس کے بعد بم ناکارہ ہو جاتا ہے اور پھٹنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس عمل کو ڈی فیوز کرنا کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو مومن فکری اعتبار سے کرتا ہے۔ وہ فکری سطح پر شیطان کے بم کو ڈی فیوز کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ شیطان کے وسوسہ اور تزئین سے محفوظ رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page