تزئین کیا ہے
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۹
تزئین کیا ہے
ابلیس ، انسان کا دشمن ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس (شیطان) نے آغازِ انسانیت میں یہ چیلنج دیا تھا کہ وہ انسانی نسل کی اکثریت کو گمراہی میں ڈال دے گا۔ اس نے کہا تھا: قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا (17:62) یعنی، اس نے کہا، ذرا دیکھ، یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر عزت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی تمام اولاد کو کھا جاؤں گا۔
ابلیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ انسان کے خلاف کوئی جارحانہ (aggressive) کارروائی کرے۔ ابلیس کے بس میں صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے انسان کے ذہن میں وسوسہ ڈالنا، انسان کو فکری اعتبار سے بہکانا۔ اس معاملے میں شیطان کا طریقہ کیا ہے۔ قرآن کے مطابق، وہ وسوسہ (الاعراف، 7:20) اور تزئین (الحجر، 15:39) کا طریقہ ہے۔ یعنی انسان کے خلاف ابلیس کی کارروائیاں ہمیشہ ذہنی سطح (intellectual level) پر ہوتی ہیں، نہ کہ جسمانی سطح (physical level) پر۔ اس لیے ابلیس کے فتنوں سے بچنے کے لیے انسان کو ذہنی تحفظ کی ضرورت ہے، نہ کہ جسمانی تحفظ کی۔ ابلیس کا وسوسہ اور تزئین کوئی یک طرفہ معاملہ نہیں، بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دو طرفہ (bilateral) معاملہ ہے۔ ابلیس اپنے وسوسہ اور تزئین میں اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر ایک کمزوری تلاش کرتا ہے۔ اس کمزوری کو تلاش کر کے وہ انسان کو بذریعہ وسوسہ اور تزئین گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قانون داں (وکیل) قانون میں لوپ ہول تلاش کر کے اس کو استعمال کرتا ہے:
Lawyers always exploit the legal loopholes.
یہی طریقہ ابلیس کا ہے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ وہ انسان کی سوچ اور جذبات میں ایک لوپ ہول
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues