Al-Risala · November 2025 · page 23

دفع کا قانون

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۳

دفع کا قانون

قرآن کی دو آیتوں (البقرہ، 2:251؛ الحج، 22:40) میں دفع کا قانون بتایا گیا ہے۔ دفع کا لفظی مطلب ہے، ہٹانا (to repel)۔ خالق نے اس دنیا کو آزادی کے اصول پر بنایا ہے، اس بنا پر دنیا میں قوموں کے درمیان ہمیشہ مقابلے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس دوران ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر غالب آجاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور ایک گروہ کو مسلسل طور پر غلبہ کا موقع ملتا رہے، تو دنیا میں فساد پیدا ہوجائے۔ اس لیے خدا اس معاملے کو اس طرح بیچ کرتا ہے کہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان مقابلہ پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ جو گروہ مفسد گروہ ہوتا ہے، اس کو دوسرا گروہ ہٹا دیتا ہے، جو نسبتاً غیر مفسد گروہ ہوتا ہے۔ یہ عمل اگر چہ ارتقا کا عمل نہیں ہے، مگر وہ بقائے اصلح (survival of the fittest) کے مشابہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ انسان کی پیدائش فطرت کے جس نظام کے تحت ہوئی ہے، اس کے مطابق، انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل طور پر متحرک رہے۔ حرکت سے انسان کے اندر ترقی ہوتی ہے، اور ٹھہراؤ سے انسان کے اندر جمود (stagnation) آجاتا ہے۔ جب کوئی انسانی گروہ ترقی کی انتہا کو پہنچ جائے تو اس کے اندر جمود آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر خالق نے یہ مقدر کر دیا کہ انسان کو ہمیشہ شاک لگتا رہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا طریقہ مقرر کیا گیا۔ دفع کا قانون گویا انسانی سماج کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ ہے۔ یہ عمل اس طرح پیش آتا ہے کہ کچھ مصلحین یا منذرین اٹھتے ہیں، وہ لوگوں کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ صالح گروہ کو بقا مل جاتی ہے، اور دوسرا گروہ جو غیر صالح ہوتا ہے، اس کو قیادت وغلبہ کے میدان سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں جاری رہا ہے۔ اس عمل کا پہلا مظاہرہ حضرت نوح کے زمانے میں ہوا۔ حضرت نوح نے اپنے زمانے کے لوگوں پر انذار کا عمل کیا۔ کچھ لوگوں نے پیغمبر نوح کی اصلاح کو قبول کیا، اور زیادہ تر لوگ بگاڑ پر قائم رہے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page