Al-Risala · November 2025 · page 24

دفع کا قانون

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۴

کے بعد ایک بڑا طوفان (Great Flood) آیا۔ اس طوفان میں مفسد لوگ ختم ہوگئے، اور جو لوگ نسبتاً صالح تھے، ان کو حضرت نوح نے کشتی پر سوار کیا۔ یہ کشتی عراق کے علاقے سے بہتی ہوئی ترکی کی سرحد پر ارارات کے علاقے میں پہنچی۔ یہ جگہ تین براعظموں کا سنگم تھی، ایشیا، افریقہ اور یورپ۔ حضرت نوح کی کشتی یہاں رکی، اس کے بعد جو لوگ طوفان سے بچ گئے تھے، وہ کشتی سے نکل کر دھیرے دھیرے منتشر (disperse) ہوگئے۔ آخر کار یہ لوگ تین براعظموں، ایشیا، افریقہ، اور یورپ میں بس گئے۔ ان لوگوں کے ذریعے ایک نئی نسل بنی، جو ان براعظموں میں پھیلی تھی۔ ان لوگوں نے انسانیت کی نئی تاریخ بنائی۔ یہ لوگ پیغمبر نوح کے تین بیٹوں، حام، سام اور یافث کی نسل سے تھے۔ لیکن بعد کے زمانے میں ان لوگوں میں دوبارہ بگاڑ آيا۔ یہی وہ زمانہ ہے، جس کے بارے میں حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ (14:36)۔ یعنی، اے میرے رب، انھوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا۔

اس آیت کو سمجھنے کے لیے صحرائی زندگی کو سامنے رکھنا چاہیے۔ صحرائی زندگی میں سورج، چاند اور ستارے، بہت زیادہ روشن نظر آتے ہیں۔ اس سے انسان کے اندر روشن اجرام سماوی کے بارے میں تحیر کا مزاج (sense of awe) پیدا ہوا، اور انسانوں کے اندر وہ چیز پیدا ہوئی، جس کو تاریخ میں فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ اس دور سے فائدہ اٹھا کر وہ ظاہرہ پیدا ہوا، جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ یہیں سے بادشاہت وجود میں آئی۔ بادشاہوں نے فوج بنا کر بزور اپنی حکمرانی قائم کرلی۔ بادشاہ لوگ اجرام سماوی کے حوالے سے اپنی مطلق حکمرانی (absolute sovereignty) کے دعویدار بن گئے۔

اپنی اس مطلق حکمرانی کے جواز کے لیے یہ نظریہ ایجاد کیا کہ جو بادشاہ کا دین ہے، وہی سب کا دین ہے۔ بادشاہ کا دین ہی حکومت سے وفاداری کا نشان بن گیا۔ یہ تصور بڑھتے بڑھتے مذہبی جبر (religious persecution) کی شکل میں ہر جگہ قائم ہوگیا۔ شرک کو ختم کرنے کے لیے پہلے اگر تبلیغ کا عمل کافی ہو سکتا تھا، تو اب اس کو ختم کرنے کے لیے اس سے لڑنا ضروری ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page