Al-Risala · November 2025 · page 25

دفع کا قانون

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۵

تاریخ کا یہی وہ موڑ ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے ایک نئی پلاننگ شروع کی۔ انھوں نے عرب کے صحرا میں ایک بے مشکل عمل شروع کیا، جس کو ڈیزرٹ تھراپی (Desert Therapy) کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے اسماعیل کو بے آب و گیاہ صحرا میں لا کر آباد کر دیا۔ جو گویا کہ ان کو قربان کر دینے کے ہم معنی تھا۔ اس قربانی کو قرآن میں ذبحِ عظیم (الصافات، 37:107) کہا گیا ہے۔ اس طرح صحرا میں ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو نیچر پرستی کی برائی سے پاک تھی۔

یہ وہی نسل تھی، جس میں چھٹی صدی عیسوی میں رسول اور اصحاب رسول پیدا ہوئے۔ پھر ایسا ہوا کہ اپنے زمانے کی دو عظیم سپر پاوروں کے ساتھ ان کے ٹکراؤ کا واقعہ پیش آیا، جس میں وہ دونوں عظیم سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ مگر ان کا خاتمہ قانونِ دفع کے تحت انجام پایا۔ کیوں کہ یہ دونوں سپر پاور اپنے زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کے خاتمے کے بعد خدا نے رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے انسانی تاریخ میں وہ انقلابی پراسس جاری کیا، جس کا کلمینیشن (culmination) موجودہ زمانے کا جمہوری اور سائنسی انقلاب ہے۔ دفع کی ایک صورت وہ ہے، جب کہ دو فریقوں میں سے ایک کے ذریعہ دوسرے غالب فریق کو دنیا کی قیادت سے ہٹا دیا جائے۔ دفع کی دوسری صورت یہ ہے کہ خود ایک ہی فریق کو بذریعہ اصلاح اس کی بے راہ روی سے ہٹا کر صحیح راستے پر لایا جائے۔

اس معاملے میں اصل اہمیت یہ ہے کہ جب کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو انسان غیر جانب دارانہ تجزیہ کے ذریعے اس کی حقیقت کو دریافت کرے۔ اس طرح اس قسم کے منفی واقعات اس کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب بنیں گے۔ وہ بار بار اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے گا۔ اس کو اپنی غلطیوں سے اپنے لیے نیا ڈائریکشن (new direction) ملے گا۔ اس طرح ہر غیر مطلوب تاریخ کے بعد مطلوب تاریخ بنے گی، اور انسان کی تاریخ عملاً صحیح رخ پر سفر کرتی رہے گی، اور وہ بڑے بڑے نتائج تک پہنچے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page