دجال کا فتنہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۲۷
کے لبادہ میں ظاہر ہوگا۔ یعنی امت دھوکہ کھا کر اس کو اپنا ڈیفنڈر سمجھ لے گی۔ حالاں کہ وہ ڈیفنڈر نہیں، بلکہ فریبی (deceiver) ہوگا۔
احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امت کا ایک شخص ظاہر ہوگا، جو دجال کو قتل کرے گا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4321)۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ قتل جسمانی قتل نہ ہوگا، بلکہ وہ نظریاتی قتل ہوگا۔ یعنی اس معنی میں کہ وہ شخص دلائل کے ذریعہ ایکسپور (expose) کر کے بتائے گا کہ یہ شخص ڈیفنڈر نہیں ہے، بلکہ وہ امپوسٹر ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ دجال ایک نہیں ہوگا، بلکہ بڑے دجال سے پہلے تیس دجال ظاہر ہوں گے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4333)۔ اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ دجال ایک انفرادی کردار نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک تسلسل کا نقطہ انتہا (culmination) ہوگا۔ دجال سے پہلے مختلف قسم کے افراد اٹھیں گے، جو گویا بڑے دجال کے لیے ابتدائی زمین تیار کریں گے۔ مثلاً پہلے مناظر (debator) قسم کے افراد ابھریں گے، اس کے بعد ایسے افراد ابھریں گے جن کو ملت اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ڈیفنڈر کا درجہ دے گی، آخر میں بڑا دجال ظاہر ہوگا۔ جس کو لوگ اپنا نجات دہندہ (saviour) سمجھیں گے۔
بڑے دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ذاتی اعتبار سے غیر معمولی شخصیت کا مالک ہوگا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے زمانے میں ایسے حالات اور وسائل پیدا ہوں گے، جو اس کو موقع دیں گے کہ وہ عملاً بڑے دجال کا درجہ حاصل کرلے۔ مثلاً یہ کہ اس کے زمانے میں عالمی کمیونی کیشن وجود میں آجائے گا۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: يُنَادِي بِصَوْتٍ لَهُ يُسْمَعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (كنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی دجال ایک ایسی آواز سے پکارے گا، جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عام انسان جیسا نہیں ہوگا، وہ کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگا۔ بلکہ اس سے مراد امت کے زوال کی ایک حالت ہے۔ اپنے زوال کی بنا پر دجال کی باتیں امت کی نفسیات کو ایڈریس کریں گی۔ دجال کی مقبولیت اس بنا پر نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues