یہود کی مثال
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۵
ہارش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا یہ عمل یہود کے ساتھ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1948 میں ان کو دوبارہ یہ موقع دیا گیا کہ فلسطین کے علاقے میں لوٹ کر آئیں، اور اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ بدقسمتی سے بنو اسرائیل کی یہ واپسی مثبت واپسی نہ بن سکی۔ اس واپسی کے ساتھ یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک خونی تصادم شروع ہو گیا، اور اس طرح وہ امکان وہ واقعہ نہ بن سکا، جو اس معاملہ میں چھپا ہوا تھا۔
اگر مسلمان یہود کو سیاسی دشمن سمجھنے کے بجائے مدعو سمجھتے، اور خیر خواہی کے ساتھ ان کے درمیان خدائی پیغام پہنچانے کا کام کرتے تو عین ممکن تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی یا کلی طور پر وہی واقعہ پیش آتا جو اس آیت میں مذکور ہے:
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وَلَا تَسْتَوَی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:33-34) ۔ یعنی، اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اس کے برخلاف، یہ سوچ لینا کہ اب قوم یہود کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے، ایک غیر پیغمبرانہ سوچ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے راہ راست پر آنے کے حوالے سے ہمیشہ پرامید رہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہد رسالت سے لے کر اب تک ہر دور میں یہودیوں نے خدا کے فائنل پیغام کو دریافت کر کے اس کو قبول کیا، اور اب بھی قبول کر رہے ہیں۔ مثلاً آسٹریا کے لیو پولڈ اسد اور امریکہ کی مارگریٹ جمیلہ (2012-1934)۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہود کے معاملے میں قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:33-34) منطبق (apply) نہیں ہوتی ہے۔
قرآن کے اس حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو امتِ وسط کی حیثیت سے یہ حق نہیں کہ وہ ابدی طور پر یہود کو ملعون سمجھ لیں۔ مسلمانوں کا رویہ یہود کے بارے میں ہمیشہ قابلِ نظرثانی ہونا چاہیے، نہ کہ نماز روزے کی طرح ابدی حکم۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues