Al-Risala · November 2025 · page 34

یہود کی مثال

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۴

یہود کی مثال

قرآن میں یہود کی تاریخ کا ایک نصیحت آمیز واقعہ سورۃ الاسراء کی ابتدائی چند آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دومرتبہ زمین میں خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹا دی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کام کرو گے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تب بھی اپنے لیے برا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کر دیں (4:

قرآن کی ان آیتوں میں یہود کے بگاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ یہود کے اندر ہم نے مصلحین پیدا کیے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے خلاف ہم نے اپنے زور آور بندے بھیجے، جنہوں نے ان کو تباہ و برباد کیا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہود (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں دو بار یہ واقعہ پیش آیا۔ ان کو ایک بار 586 قبل مسیح میں بابل و نینوا کے بادشاہ نبو کدنضر (Nebuchadnezzar) کے ہاتھوں تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اور دوسری بار 70 عیسوی رومی بادشاہ رومی بادشاہ ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ ان دونوں نے قوم یہود کو فلسطین کے علاقے سے نکال کر بیرونی علاقے میں جلاوطن کر دیا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر ماجدی، سورۃ بنی اسرائیل، آیت (4)۔ یہی وہ لوگ ہیں، جن کو تاریخ میں ڈائسپورا (diaspora) کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ بظاہر سزا کا معاملہ تھا، لیکن اصلاً اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم زمانے میں یہودی نسلوں میں جو زوال آ گیا تھا، اس کو توڑا جائے، اور یہود کو دوبارہ یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی نسلوں کے اندر بیداری لائیں، اور ان کو احیا (revival) کا موقع مل سکے۔ یہ خدائی قانون بشمول امت مسلمہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے یکساں طور پر لاگو ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page