Al-Risala · November 2025 · page 37

با مقصد زندگی

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۷

طریقِ مطالعہ ایک صاحب نے ہمارے واٹس ایپ پر درج ذیل میسج بھیجا ہے:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اسکالرز اور مفسرین کو پڑھنے کے حوالے سے میرا یہ طریقہ ہے کہ میں پڑھتا سب کو ہوں، یا یوں کہہ لیجیے کہ جس جس کو پڑھنے سننے کا جب جب موقع ملتا ہے اسے پڑھتا سنتا ہوں، اور مختلف افراد کے زیر مطالعہ افکار کے ساتھ وہ کرتا ہوں جو اس مثال سے واضح ہو جائے گا: جس طرح ایک گائے گھاس کھاتی ہے، مختلف قسم کا چارہ وغیرہ کھاتی ہے، پانی پیتی ہے، اس کے بعد اس کے معدے کا نظام غیر مفید اور غیر ضروری چیزوں کو خارج کر دیتا ہے اور صرف مفید اور کارآمد چیزوں کو ہضم کرتا ہے اور پھر اس سب کے نتیجے میں گائے دودھ جیسی عظیم اور مفید چیز نکالتی ہے۔ اسی طرح میں پڑھتا سب کو ہوں، اور جو بات ضروری اور اہم بلکہ قرآن مجید اور سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مطابق ملے اس کو لے لیتا ہوں، اور باقی باتوں کو چھوڑ دیتا ہوں۔ یعنی میں کسی مصنف یا اسکالر کی کتابوں سے استفادہ ضرور کرتا ہوں لیکن کسی کتاب سے اس حد تک متاثر نہیں ہوا کرتا جس طرح لوگوں کی اکثریت کسی اسکالر سے متاثر ہوتی ہے اور پھر اس کی فالوور بن جاتی ہے۔ میرا یہ طریقہ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس سلسلے میں مجھے آپ کے تبصرے کا انتظار رہے گا۔ (ایک قاری الرسالہ) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گائے کا تقابل انسانی رویے سے کرنا درست نہیں۔ گائے مکمل طور پر خدا کے فطری قانون کے مطابق عمل کرتی ہے۔ لیکن انسان اپنے معاملے میں اپنے ارادہ و اختیار کے مطابق عمل کرتا ہے۔

آپ کا جو طریقہ ہے، وہی موجودہ زمانے میں اکثر تعلیم یافتہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ بظاہر صحیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ اس طریقے کی غلطی یہ ہے کہ آدمی بظاہر یہ کہتا ہے کہ وہ ہر ایک کو پڑھتا ہے، لیکن وہ خود اپنے آپ کو کرائٹیرین (criterion) بنا لیتا ہے۔ اس لیے اس طرح کا پڑھنا اپنے آپ کو پڑھنا ہوتا ہے، نہ کہ سب کو پڑھنا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے آبجیکٹیو انداز میں قرآن وسنت کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page