Al-Risala · November 2025 · page 38

سبق کی اہمیت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۸

جائے کہ خالص قرآن وسنت کے اعتبار سے صحیح طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے طریقے کے مطابق، سیرت کی کوئی کتاب پڑھتے ہیں۔ اس میں آپ کو غزوات کے عنوان سے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ غزوات ہر گز جنگ کے معنی میں نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی بیشتر تعداد جنگ کو اوائڈ کرنے کے معنی میں تھی۔

فریق ثانی نے اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں الجھانا چاہا تو آپ نے یہ کوشش کی کہ فریق ثانی کی طرف سے ہونے والے جنگی اقدامات کو جھڑپ (skirmishes) میں تبدیل کر دیا جائے۔ گویا جھڑپ (skirmish) کے واقعات کو سیرت نگاروں نے غزوات کا نام دیا ہے۔ حالاں کہ وہ پریکٹیکل وزڈم کا استعمال کر کے جنگ کو اوائڈ کرنے کی ایک عظیم مثال ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ نے جو کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے حکیمانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے جنگی اقدام کو جھڑپ میں تبدیل کر دیا۔ جیسا کہ خندق کے موقع پر ہوا۔

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو کسی ماحول میں زندگی گزارتا ہے۔ اس ماحول کے زیر اثر ہر ایک انسان کا اپنا ایک ذہنی سانچہ (mindset) بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اسی بنے ہوئے ذہن (conditioned mind) کے تحت چیزوں کو دیکھتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ اسی مائنڈ سیٹ کو قرآن میں شاکلہ (17:84) کہا گیا ہے۔ قرآن وسنت کو درست انداز میں سمجھنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اس خود ساختہ شاکلہ کو توڑے اور ربانی شاکلے کی روشنی میں وہ دین کا مطالعہ کرے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے مطالعے سے درست نتیجہ اخذ کر سکے۔

سبق کی اہمیت

ولیم ہنری بل گیٹس (پیدائش 1955) مشہور امریکی دولت مند ہے۔ اس نے اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں کہا— اپنی خوشی کا جشن منانا اچھا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی ناکامی سے سبق سیکھیں :

It is fine to celebrate success, but it is more important to heed lessons of failure.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page