Al-Risala · November 2025 · page 39

لکھنے کا کلچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۹

لکھنے کا کلچر

مولاناسیدسلیمان ندوی (1953-1884) جب ندوۃ العلماء (لکھنو) میں استاد تھے، تو ان سے ان کے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کب لکھنا چاہیے۔ اس پر انھوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا: اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے، اس کے بعد لکھو۔ یہ ایک صاحب تصنیف عالم کا نہایت کارآمد مشورہ ہے۔ لیکن یہ مطالعہ کسی موضوع پر علمی انداز میں ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر آپ یہ کریں کہ صبح سے شام تک اردو اخبارات پڑھیں، اور پھر مضمون لکھنے بیٹھ جائیں تو ایسے مضمون میں کوئی گہرائی نہیں ہوگی۔ سرسری مطالعہ سے سرسری مضمون لکھنا آئے گا، اور گہرے مطالعہ سے گہرے مضمون لکھنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ گہرامطالعہ کرنے سے آدمی کے اندر گہری سوچ پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ زیادہ گہرے انداز میں معاملات پر رائے قائم کرے۔ اس کی رائے میں میچوریٹی آجاتی ہے۔ معروف انگریزی رائٹر فرانس بیکن (Francis Bacon, 1561-1626) کا مشہور قول ہے کہ بعض کتابیں صرف ورق گردانی کے لیے ہوتی ہیں، کچھ سرسری مطالعے کے لیے ہوتی ہیں، اور چند ایک کا گہرا مطالعہ کیا جاتا ہے :

Some books are to be tasted, others to be swallowed, and some few to be chewed and digested. (The Essays, Oxford, 1890, p. 342)

ایک کتاب اور دوسری کتاب میں یہ فرق اسی لیے پیدا ہوتا ہے کہ کوئی لکھنے والا کتاب کو گہرے مطالعے کے بعد لکھتا ہے، اور کوئی سرسری مطالعے کے بعد کتاب چھاپ دیتا ہے۔ مطالعے کے اسی فرق کی وجہ سے کتاب میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اگر کتاب لکھو تو ایسی کتاب لکھو کہ جس کو پڑھا جائے ۔ جو کتاب بازار میں جا کر رڈی میں فروخت ہو جائے، ایسی کتاب لکھنے کا کیا فائدہ۔ موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس، اور پھر ای ریڈرز، وغیرہ کی ایجاد کے بعد مطالعہ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page