Al-Risala · November 2025 · page 47

17 جولائی 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۷

یہ کتاب ایک ملحد شخص کے ساتھ انٹرایکشن کا ثمرہ ہے۔ اگر میری اس شخص سے ملاقات نہیں ہوتی تو میں متعلقہ موضوع کے مطالعہ پر آمادہ بھی نہ ہوتا۔ بہرحال اس حوالے سے میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اختلاط سے خطرے کا جو تصور ہے، وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ جو لوگ اس خطرے کے احساس سے دوچار ہیں، وہ اس چیلنج کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، جو اس اختلاط اور میل جول کی دین ہے۔ یہ میل جول بجائے خود تعلیم ہی کی ایک شکل اور ذریعہ ہے۔ اگر مدارس کے لوگوں کا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہو تو میرے خیال میں ہندوستان میں اس سے ہندو - مسلم تعلقات کے باب میں کافی فائدہ حاصل ہوگا۔ س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ میل جول کو فروغ دینا علما کی ذمہ داری ہے؟ لیکن اگر علما میل جول میں دلچسپی نہ لیتے ہوں تو؟

ج: میں مدرسوں کو اس کا الزام نہیں دے رہا ہوں۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان اسلام کا تعارف پیش کرنا یہ باہمی میل جول پر منحصر ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا ایک پیغام لے کر مبعوث ہوا ہوں۔ تم لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ تم لوگ میرے بعد اسے پوری انسانیت تک عام کردو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 67)۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کے اصحاب کی بڑی تعداد تبلیغ وارشاد کے لیے مکہ ومدینہ کو چھوڑ کر اس سے متصل علاقوں میں چلی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ اور مکہ میں اصحاب رسول کی بہت کم قبریں ہیں۔

س: علما کی طرف سے دوسروں کے ساتھ تعامل میں سب سے بڑی رکاوٹ زبان کا مسئلہ ہے۔ علما کی اکثریت اردو کے علاوہ دوسری زبان سے واقف نہیں ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس سلسلے کی ایک بڑی مشکل ہے؟

ج: جہاں چاہ وہاں راہ۔ میں نے انگلش اور ہندی خود سے سیکھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس کے فارغین صحیح عزم سے کام لیں تو وہ بالکل سیکھ سکتے ہیں۔ جب ایک شخص دوسروں سے میل قائم کرتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس کی زبان بھی سیکھتا جاتا ہے اور ان کی تہذیب و روایت سے بھی اس کی آشنائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ (جاری)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page