Al-Risala · November 2025 · page 46

17 جولائی 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۶

ایک انٹرویو

( زیر نظر انٹرویو کی پہلی قسط الرسالہ جولائی ۔ اگست 2025 میں شائع ہو چکی ہے ) س: آپ کے خیال میں اہل مدارس اور علما بین مذاہبی مکالمے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ج: میرے خیال میں وہ اس تعلق سے نہایت مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے وہ اس میں مشغول نہیں ہیں۔ مدارس کو غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول کے فائدے کا احساس نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے طلبہ پر منفی اثر پڑنے کے بجائے ان پر مثبت اثر پڑے گا اور اس سے ان کی مذہبیت کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔

اس سلسلے میں میں مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک شاگرد کا واقعہ سنانا چاہوں گا۔ انھوں نے مولانا سے اپنے لڑکے کی مذہب سے بیگانگی کی شکایت کی ۔ مولانا تھانوی نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اس لڑکے کو عیسائی اسکول میں بھیج دیں۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے نتیجے میں وہ لڑکا ایک با عمل مسلمان بن گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں اس لڑکے کو مذہب کے تعلق سے مستقل چیلنج در پیش تھا۔ اس کے عیسائی ساتھی اس سے اسلام سے متعلق سوالات کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ اس کو اسلام کے متعلق پڑھنا پڑا۔ اسی طرح ان لوگوں نے اس سے نماز کے بارے میں سوال کیا تو اس کے دل میں نماز پڑھنے کا داعیہ پیدا ہوا اور وہ اس کا پابند ہو گیا۔

اس حوالے سے میں خود اپنی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ تقریباً نصف صدی قبل جب میں لکھنو میں تھا، تو میری ایک ہندو اسکالر سے ملاقات ہوئی، جو ملحد تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تاریخ سے ہٹا دیا جائے تو اس سے دنیا کی تاریخ میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ میں اس کے اس بیان سے بالکل نہیں بھڑکا۔ اس کے بجائے میں نے اس جملے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں ایک خاص طرح کا فکری عمل شروع ہو گیا۔ مسلمان رسول اللہ کو آخری پیغمبر اور پوری انسانیت کے لیے ایک نمونہ تصور کرتے ہیں۔ مذکورہ شخص کے اس جملے نے مجھے مجبور کیا کہ میں رسول اللہ کے تاریخی رول کا مختلف کتابوں کے حوالے سے مطالعہ کروں ۔ اس مطالعہ کا نتیجہ میری کتاب ” اسلام دورِ جدید کا خالق “ کی شکل میں سامنے آیا۔ حقیقت میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues

Printed page