Al-Risala · January 2025 · page 39

تعمیری طریقہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۳۹

ایک انٹرویو (تیسری قسط)

سوال: مولانا، فسادات کے بارے میں عموماً اس طرح کی خبریں آتی ہیں کہ ہندو لیڈروں کی اشتعال انگیزی فسادات کا باعث بن جاتی ہے۔ آپ بتائیں گے کہ فسادات کا آغاز کس طرح ہوتا ہے اور فوری اسباب کیا ہوتے ہیں؟

جواب: بڑا اہم سوال ہے کہ فساد کس طرح شروع ہوتا ہے۔ اس کو سمجھانے کے لیے میں آپ کو دو مثالیں دوں گا۔

علی گڑھ میں ہر سال دنگل ہوتا ہے، جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اگست 1978 کے ایک دنگل میں مسلم پہلوان کو شکایت ہوئی کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ اس کی شکایت کا نشانہ سریش بھورے تھا جس سے اس کی رقابت چلی آرہی تھی۔ دنگل کے بعد مسلمان پہلوان نے طے کر لیا کہ سریش بھورے سے انتقام لینا ہے۔ اکتوبر کی ایک شام کو انصار احمد پہلوان اور اس کے ساتھی سریش بھورے کو اکیلا پا کر اس پر حملہ آور ہو گئے اور چھرے سے وار کر کے اس کو زخمی کر دیا۔ وہ مر گیا۔ سریش بھورے کا مرنا شہر کے بارے ہوئے فرقہ پرست لیڈروں کے لیے ایک نادر موقع تھا۔ انہوں نے جلوس نکالا اور نعرہ لگایا کہ خون کا بدلہ خون۔ اشتعال انگیز تقریریں کر کے پورے شہر کی فضا کو خراب کر دیا، یہاں تک کہ فساد شروع ہو گیا اور علی گڑھ جل کر خاکستر ہو گیا۔ ہندو مسلم فسادات اکثر ان مقامات پر ہوتے ہیں جہاں مسلمان اقتصادی اعتبار سے نسبتاً بہتر ہیں۔ اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو برباد کرنے کی منظم سازش ہے۔ حالانکہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جن مقامات پر بہتر حیثیت میں ہیں، وہیں وہ جذباتی حرکتیں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کسی آدمی کو پرجوش کارروائی کرنے کے لیے ہمیشہ سماجی پشت پناہی درکار ہوتی ہے۔ یہ سماجی پشت پناہی ان مقامات کے مسلمانوں کو بآسانی مل جاتی ہے، جہاں وہ اقتصادی اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page