تعمیری طریقہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۴۰
سے بہتر ہوں۔ مسلمانوں کے آپس کے جھگڑے اور اختلافات بھی انہی مقامات پر زیادہ ہوتے ہیں جہاں انہیں کسی قدر معاشی استحکام حاصل ہو۔ اسی طرح مسلم اور غیر مسلم تصادم بھی اکثر ان مقامات پر ہوتا ہے جہاں مسلمان عددی اور اقتصادی اعتبار سے اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ خدا اور رسول کا حکم ہے کہ اپنے آدمی کو ابتدائی شرارت کے وقت پکڑو۔ مگر وہاں مسلمانوں کے قائدین صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب فساد بڑھ کر اپنی عمومی بربادی تک پہنچ جاتا ہے۔ ابتدائی چنگاری کو بھڑکانے والے کا ہاتھ پکڑنے کے لیے کوئی نہیں اٹھتا۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستا تا ہے تو کوئی بھی موقع پر پہنچ کر ظالم مسلمان کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ حالانکہ اس قسم کے مظلوم مسلمان اکثر منفی جذبات کا شکار ہو کر ایسی کارروائیاں کرتے ہیں جس کی سزا پورے معاشرے کو بھگتنی پڑتی ہے۔
اسی طرح جب ایک غیر مسلم سے شکایت پیدا ہونے پر ایک مسلمان اس کے خلاف تخریبی منصوبہ بناتا ہے یا جب کچھ مسلمان غیر مسلموں کے سامنے یہ بے معنی مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہماری نماز کے وقت عبادت گاہ کی گھنٹیاں نہ بجاؤ، یا مسجد کے سامنے سے اپنا جلوس نہ لے کر جاؤ تو ایسے مواقع پر مسلمانوں میں سے کوئی نہیں اٹھتا کہ ان سر پھرے مسلمانوں کو روکے۔ خدا کی ہدایت یہ ہے کہ ہم انفرادی فساد کے وقت متحرک ہوں۔ مگر ہمارے تمام لیڈر صرف اجتماعی فساد کے وقت متحرک ہوتے ہیں۔ یہ خدا کے راستے پر چلنے کے بجائے خود ساختہ راستے پر چلنا ہے۔ اور خود ساختہ راستے پر چلنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
مئی 1984 میں بھیونڈی تھانے اور بمبئی (ممبئی) کے علاقہ میں خونریز فساد ہمارے مسلمان رہنماؤں کے اندازِ کار کی بہترین مثال ہیں۔ یہ فساد اتنا شدید تھا کہ اخبارات نے اسے زمین کے اوپر جہنم قرار دیا۔ واقعہ یہ تھا کہ انتہا پسند ہندو تنظیم کے لیڈر بال ٹھاکرے نے اپریل 1984 کو چوپاٹی کے مقام پر ایک تقریر کی۔ نہ ملک کی کسی نیوز ایجنسی نے اس تقریر کو نشر کیا اور نہ کسی اخبار نے اس کی رپورٹ شائع کی۔ بعض مقامی نوعیت کے مراٹھی اخبارات نے اس کی رپورٹنگ کی، لیکن یہ اشتعال انگیز
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues