شخصیت پرستی، تربیت سازی
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۴۶
جانے کے بعد اس دینی جدوجہد کے لیے پہلے سے زیادہ سرگرم ہو جائیں۔
میرا کام اللہ کے سچے دین کا اعلان و اظہار ہے۔ میری ساری دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ اللہ کی بڑائی بیان کی جائے۔ پیغمبر اسلام کی لائی ہوئی ہدایت کو آج کے انسانوں تک پہنچایا جائے۔ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن سے ہوشیار کیا جائے۔ میرے بعد جو لوگ میرے اس مشن کے لیے سرگرم ہوں وہی میرے سچے ساتھی ہیں۔ اور جو لوگ نظم ونثر میں میری تعریف کریں، ان سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی راہ الگ ہے اور میری راہ الگ۔ ‘‘ (ڈائری 23 اپریل 1985) سی پی ایس انٹرنیشنل مولانا کے حکمت و معرفت پر مبنی علمی میراث کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یعنی اسلام کو عصری اسلوب میں تمام انسانوں کے سامنے پیش کرنا۔ ماڈرن فکری چیلنج کے مقابلے میں اسلام کے لیے موجود نئے امکانات کی طرف رہنمائی کرنا۔ قرآن کو خدا کے منصوبہ تخلیق کے اعتبار سے تمام انسانوں کے لیے قابل فہم بنانا، اور ان کی اپنی زبان میں آسانی سے دستیاب کرانا، وغیرہ۔ مولانا کی تحریر وتقریر سے انسان میں کتنی تبدیلی آئی ہے، اس کو جاننے کے لیے الرسالہ خبرناموں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ الرسالہ کے خصوصی شمارہ داعی اسلام مولانا وحید الدین خاں (اگست ستمبر 2021) کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں مشہور مسلم اسکالر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، ڈین آکسفرڈ اسلامک سینٹر کا بھی مضمون ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ ’’ کون ہے جو اس کا اعتراف نہ کرے کہ مولانا نے بے شمار انسانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا، ان کی تحریروں نے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی رہنمائی میں بڑا کردار ادا کیا، انہوں نے مثبت اور پرامن طریقہ سے ٹھوس اور پائیدار کام کرنے کا نمونہ پیش کیا، اور کتنے مایوس لوگوں کو یاس و ناامیدی سے نکالا اور انہیں جینے کا حوصلہ دیا۔ ‘‘ اسی طرح ذوالفقار خان نامی ایک صاحب اپنے فیس بک وال پر لکھتے ہیں کہ ’’ مولانا وحید الدین خان کی کتب انسانی رویے کو بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہر صفحہ سبق آموز ہوتا ہے۔ ‘‘ اس قسم کے تاثرات گویا اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جن تحریروں اور تقریروں نے پہلے بے شمار لوگوں کی زندگیاں بدلی ہیں، اب ان کو ایسے لوگوں تک پہنچانا چاہیے، جن کو یہ پیغام اب تک نہیں مل سکا ہے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کا یہی مقصد ہے۔ اور اسی مشن کو لے کر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues