Al-Risala · January 2025 · page 7

نئے سال کے لیے ایجنڈا

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۷

کرنا ہے کہ وہ انگریزی زبان اور ٹیکنیکل سبجیکٹس میں اچھی لیاقت پیدا کریں۔ خوش قسمتی سے آج کل ہر جگہ اس کی سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو ان سہولتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ٣۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ مسلمان شادیوں میں اور دوسری تقریبات میں بہت زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ اس قسم کا خرچ فکری پس ماندگی کی علامت ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ خرچ کے ذرائع بہت محدود تھے تو لوگ شادیوں اور تقریبات میں اپنا پیسہ خرچ کیا کرتے تھے۔ اب پیسے کے استعمال کے دوسرے زیادہ وسیع اور تعمیری ذرائع وجود میں آچکے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیسے کو جدید تعمیری کاموں میں خرچ کرنا سیکھیں۔ مثلاً اعلیٰ معیار کے اسکول، ٹیوشن بیوروز، پروفیشنل ٹریننگ سنٹر، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس، وغیرہ۔

4۔ موجودہ زمانے میں ہر چیز کا معیار بدل گیا ہے۔ مثلاً پچھلے دور میں خاندانی منجن کی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ اب سائنسی طریقوں سے بنائے ہوئے ٹوتھ پیسٹ نے اہمیت اختیار کر لی ہے۔ پچھلے دور میں شاہی نسخے بڑی چیز سمجھے جاتے تھے۔ اب ساری اہمیت سائنٹفک فارمولے کی ہوگئی ہے۔ پہلے زمانے میں بیل گاڑی لوہے کے دھرے پر چلتی تھی، اب گاڑیاں بال بیرنگ کے اوپر دوڑتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ زمانے کی اس تبدیلی کو سمجھیں اور نئی تکنیک کو سیکھ کر ہر میدان میں اعلیٰ ترقی حاصل کریں۔ 5۔ 1947 کے بعد مختلف اسباب سے مسلمان رزرویشن کو اپنے لیے کامیابی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جدید حالات نے ساری اہمیت کا مپیٹیشن کو دے دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب رزرویشن کی بات ایک خلاف زمانہ نعرہ بن چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ملی ڈکشنری سے رزرویشن کا لفظ نکال دیں۔ اور ساری توجہ محنت اور منصوبہ بندی پر لگائیں۔ موجودہ زمانے میں یہی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ 6۔ 1947 کے بعد مسلمانوں میں سیاسی اعتبار سے نیگیٹیو پالیسی کا طریقہ رائج ہو گیا۔ یہ طریقہ مستقل ملی مفاد کے لیے سخت مہلک ہے۔ وہ جمہوری تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پازیٹیو سیاسی پالیسی کو اختیار کریں۔ یہی موجودہ زمانے میں اُن کے لیے کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page