اختلافِ رائے
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۶
اختلافِ رائے
ایک بار میری ملاقات ایک مغربی اسکالر سے ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ اہلِ مغرب کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا اختلافِ رائے (dissent) کو انسان کا مقدس حق قرار دینا۔ یہ بلا شبہ ایک درست بات ہے۔ لیکن وہ مغربی فکر کی بات نہیں، وہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ اس قانون کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (کنز العمال، حدیث نمبر 28686)۔ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔
اختلافِ رائے کا اظہار ہمیشہ تنقید (criticism) کی صورت میں ہوتا ہے۔ مگر تنقید خواہ وہ کسی شخص کے حوالے سے کی گئی ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطالعے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ تنقید کا اصل مقصد کسی موضوع پر کھلے تبادلہ خیال (open discussion) کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ تنقید کا مقصد یہ ہے کہ مختلف ذہن (mind) دیانت دارانہ طور پر (honestly) اپنے نتیجہ تحقیق کو بتائیں، اور پھر دوسرے لوگ دیانت داری کے ساتھ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اس طرح کا آزادانہ تبادلہ خیال ذہنی ارتقا (intellectual development) کا لازمی تقاضا ہے۔ علم اپنی نوعیت کے اعتبار ایک لامحدود موضوع ہے۔ یہ بات مذہبی موضوع پر بھی اُسی طرح صادق آتی ہے، جس طرح سیکولر موضوع پر۔ اختلافِ رائے بلا شبہ ایک رحمت ہے۔ اختلافِ رائے ہر حال میں مفید ہے۔ اس معاملے میں اگر کوئی شرط ہے تو وہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اختلاف کرنے والا مسلّم دلیل کی بنیاد پر اختلاف کرے، وہ الزام تراشی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ اختلافِ رائے کے فائدے بے شمار ہیں۔ اس سے زیر بحث مسئلے کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس سے تخلیقی فکر (creative thinking) میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ دوسرے کے نتیجہ فکر سے فائدہ اٹھائیں۔ اس سے مسئلہ زیر بحث کے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں جو پہلے سے ظاہر نہیں ہوتے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues