اختلاف ایک مثبت ظاہر ہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۷
اختلاف ایک مثبت ظاہر ہ
ایک قول بطور حدیث مختلف کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَة (کنز العمال، حدیث نمبر 28686)۔ یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔ محدثین عام طور پر اس قول کو بے اصل (لَا أُصْلَ لَهُ) مانتے ہیں (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 39)۔ محدثانہ اصول کے مطابق یہ قول ایک بے اصل قول ہوسکتا ہے۔ لیکن قانونِ فطرت کے اعتبار سے بلاشبہ وہ ایک درست قول ہے۔
اختلاف (difference) فطرت کے قانون کے مطابق ایک مثبت ظاہرہ ہے۔ وہ کوئی غیر مطلوب ظاہرہ نہیں۔ اختلاف اگر سنجیدہ اختلاف ہو تو وہ ڈسکشن کا دروازہ کھولتا ہے۔ لوگ اس پر سنجیدہ اظہارِ رائے کرتے ہیں، جس سے زیر بحث مسئلے کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ بیسویں صدی کے مشہور امریکی رائٹر اور صحافی والٹر لپ (Walter Lippmann, 1889-1974) نے نہایت درست طور پر کہا ہے کہ جہاں تمام لوگ یکساں طور پر سوچیں، وہاں کوئی بھی زیادہ نہیں سوچتا: Where all think alike, no one thinks very much. جب دو پتھر آپس میں ٹکرائیں تو اس سے ایک تیسری چیز ایمرج کرتی ہے، اور وہ چنگاری ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ جب دو دماغ کسی اختلافی موضوع پر آپس میں گفتگو کریں تو اس سے ایک تیسرا خیال وجود میں آتا ہے، جو کہ دونوں کے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اختلاف ایک رحمت ہے۔ اختلاف کو اگر سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے تو اس سے غور وفکر کا نیا دروازہ کھلتا ہے، معاملے کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ البتہ اس کی یہ شرط ہے کہ گفتگو کو ہار جیت کے معنی میں نہ لیا جائے، بلکہ موضوع کی تحقیق کے معنی میں لیا جائے۔ بحث کے دونوں فریق اپنی ذات کو الگ کرکے زیرِ بحث مسئلے پر تبادلہ خیال کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues