ترقی کا راز
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۸
ترقی کا راز
مغرب کے سفر میں میری ملاقات ایک بڑے مغربی اسکالر سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مغرب (West) کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا ـــ اختلافِ رائے کو انسان کا ناقابل تنسیخ حق سمجھنا:
To accept dissent as an absolute human right.
مغربی اسکالر کے اس جواب کو سننے کے بعد میں نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں، مثلاً:
1. Dissent: The History of an American Idea by Ralph Young, 2015, NYU Press 2. On Liberty by John Stuart Mill, 1859 3. The Constitution of Liberty by F. A. Hayek, 1960 اس موضوع پر اپنے مطالعے کے نتیجے میں میں اس رائے کی صداقت پر مطمئن ہوگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مغربی تہذیب سے پہلے انسانی تاریخ میں اختلافِ رائے کو انسانی حق (human right) کا درجہ حاصل نہ تھا۔ یہ صرف مغربی تہذیب کے بعد ہوا ہے کہ اختلاف رائے کو متفقہ طور پر ایک یونیورسل نارم کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔
اختلافِ رائے کو ڈیسنٹ (dissent) کا نام دینا مغربی تہذیب کا ظاہر ہ ہے۔ مغربی تہذیب سے پہلے یہ لفظ موجود نہ تھا۔ ڈیسنٹ ایک نیوٹرل لفظ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ مثبت اختلاف کے لیے یہ ایک صحیح ترین لفظ ہے۔ مثبت اختلاف صرف اختلاف ہوتا ہے، وہ نہ موافق ہوتا ہے، اور نہ مخالف۔ میں سمجھتا ہوں کہ مثبت اختلاف اجتماعی ترقی کے لیے شرطِ لازم ہے۔ اختلاف اگر صرف اختلاف ہو تو وہ نہایت آسانی سے مخالفت کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور مخالفت صرف ایک منفی سرگرمی ہے۔ مخالفت کو مثبت سرگرمی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues