Art of difference management
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۱۶
طرح سنت کی پیروی کی صورت میں اختلاف امت محمدی کے لیے رحمت بن جائے گا۔ اختلاف کے ہوتے ہوئے وہ ترقی کا پر امن سفر کامیابی کے ساتھ طے کر سکیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری بہت سی سنتیں ہیں اسی طرح وہ چیز بھی ایک سنت رسول ہے جس کو ہم نے آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ اس اُصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے، کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔
مثال کے طور پر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں ان کے معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا سادہ اُصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں، نہ کہ تعدد پر ۔ ان میں سے جس طریقہ کی بھی پیروی کی جائے وہ درست ہوگا (بأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُم) جامع بیان العلم لابن عبد البر، حدیث نمبر 1760۔
اسی طرح حضرت علی اور حضرت معاویہ کا معاملہ یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی بحث۔ اس قسم کے معاملات میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطَباق (application) یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالہ کر دیا جائے اور ہر فرقہ اپنی آج کی تعمیری ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرہ میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ غیر حکومتی دائرہ، مثلاً تعلیم اور اصلاح اور دعوت کے شعبوں میں اپنی کوششیں صرف کریں۔
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملی مقصد کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلسطین اور کشمیر اور چیچنیا اور فلپائن، وغیرہ میں۔ ان مقامات پر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور صرف مسلمہ پرامن طریق کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues