Art of difference management
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۱۷
قرآن کی آیت : اَلصُّلْحُ خَيْرُ (4:128) بتاتی ہے کہ ڈیفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طور پر خیر کا سبب ہے۔ وہ ہر حال میں قابلِ عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت ناقابلِ عمل بن جاتا ہے جب کہ مسلمان تشدد کا آغاز کر کے فضا کو بگاڑ دیں۔ تشدد کا آغاز لازمی طور پر جوابی تشدد پیدا کرے گا اور پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اگر مسلمان یہ غلطی کریں کہ تشدد کا آغاز کر کے وہ صورتِ حال کو بگاڑ دیں تو خود انہیں کو دوبارہ صورتِ حال کو نارمل بنانے کی ذمہ داری لینی پڑے گی۔ اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تا کہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں ڈیفرنس مینجمنٹ پر عمل کرنا ممکن ہو جائے۔
اسلام دین فطرت ہے۔ مذکورہ اصولِ فطرت ہی کا ایک اصول ہے جس کو اسلام میں اختیار کیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹر ڈیفرنس کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق و اختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق و اختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔
It requires difference management rather than eliminating the difference. فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈیفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق و اختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق و اختلاف کو پیچ کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔
فرق و اختلاف کوئی برائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔ فرق و اختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ اور چیلنج کا سامنا کرنا ہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحد راز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues