رواداری کا اصول
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۲۰
fanaticism in many countries had led to many forms of discrimination and the intimidation of those who hold contrary views. Violence and intimidation against authors, journalists and others who exercise their freedom of expression, were also on the increase along with political movements which seek to make particular groups responsible for social ills such as crime and unemployment. Intolerance is one of the greatest challenges we face on the threshold to the 21st century, said the UNESCO statement. Intolerance is both an ethnic and a political problem. It is a rejection of the differences between individuals and between cultures. When intolerance becomes organised or institutionalised it destorys democratic principles and poses a threat to world peace. (The Hindustan Times, January 1, 1995)
اقوام متحدہ کا یہ اعلان نہایت صحیح اور بروقت ہے۔ آج دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی رواداری یا ٹالرنس ہے۔
زندگی کی حقیقتوں میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ خواہ کوئی خاندان ہو یا کوئی سماج ہو یا کوئی ملک ہو، ہر جگہ ایک اور دوسرے میں فرق اور اختلاف ضرور پایا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فرق اور اختلاف کی موجودگی میں اتحاد اور میل ملاپ کس طرح پیدا کیا جائے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتحاد کا ماحول اگر بنانا ہے تو اختلافات کو مٹا دینا ہوگا۔ مگر یہ رائے غلط ہے، کیوں کہ وہ قابل عمل نہیں۔ اگر آپ پھول کے ساتھ کانٹے کو پسند نہ کرتے ہوں تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ کانٹوں کو توڑ کر کانٹوں کا خاتمہ کر دیں۔ کیوں کہ آپ ڈالی کا ایک کانٹا توڑیں گے تو اس کی جگہ دوسرا کانٹا نکل آئے گا۔ حتیٰ کہ اگر آپ تمام پھولوں پر بلڈوزر چلا دیں تب بھی جو نیا درخت اُگے گا اس میں دوبارہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ضرور موجود ہوں گے۔ اس دنیا میں کانٹوں کو گوارا کر کے ہی پھول کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اختلافات کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues