Al-Risala · March 2025 · page 21

رواداری کا اصول

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۲۱

برداشت کر کے ہی پرامن سماج بنایا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں اختلاف کے باوجود متحد ہونے سے اتحاد حاصل ہوتا ہے۔ نہ کہ اختلاف کو مٹا کر متحد ہونے سے۔ کیوں کہ اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ امن کی زندگی کو حاصل کرنے کا واحد راز ہے— بے امنی کو گوارا کرنا۔ دنیا میں فرق اور اختلاف ہونا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ ایک مثبت خصوصیت ہے اور اس کے بہت سے بڑے بڑے فائدے ہیں۔ باغ حیات کی خوشنمائی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اتحاد کے پھول کے ساتھ اختلاف کا کانٹا بھی پایا جائے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں میں اعلی اخلاقیات کی تربیت ہوتی ہے۔ اپنے ہم خیال لوگوں کے درمیان اگر آپ خوش اخلاق ہوں تو آپ نے محض ابتدائی اخلاق کا ثبوت دیا۔ لیکن اگر آپ ان لوگوں کے درمیان خوش اخلاقی کا رویہ اختیار کریں جو آپ سے الگ خیال رکھتے ہیں یا آپ کے ناقد ہیں تو آپ نے یہ استحقاق حاصل کیا کہ آپ کو اعلی اخلاقی سلوک کا کریڈٹ دیا جائے۔ اسی طرح اگر سماج میں تمام لوگ بالکل ایک رائے کے ہوں۔ ان میں کوئی اختلافی بحث نہ پیدا ہوتی ہو تو ایسا سماج پتھر کے اسٹیچو کا سماج بن جائے گا۔ اس کے درمیان رہنے والوں کی فکری ترقی رک جائے گی۔ فکری ترقی ہمیشہ افکار کے ٹکراؤ کے درمیان ہوتی ہے۔ پھر جہاں افکار کا ٹکراؤ ہی نہ ہو وہاں فکری ترقی کس طرح ہو سکتی ہے۔

نزاع اور اختلاف کے مقابلہ میں رواداری کا طریقہ اختیار کرنا کوئی انفعالی (passive) صفت نہیں۔ یہ عین ایجابی (positive) صفت ہے۔ زندگی کی تعمیر میں اختلافات کا نہایت اہم رول ہے۔ اختلافات کے عمل کے دوران ہی اعلی انسانی شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ اگر انسانی سماج سے اختلاف کی حالت کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد اعلی شخصیتوں کا بننا بھی یقینی طور پر رک جائے گا۔ اس دنیا میں کوئی بھی انسان کامل نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس میں ایک صفت ہوتی ہے تو دوسری صفت اس کے اندر نہیں ہوتی۔ یہ بھی ایک سبب ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے درمیان فرق اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues

Printed page