رواداری کا اصول
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۲۲
مگر اجتماعی زندگی کے لیے یہ اختلاف ایک رحمت ہے۔ کیوں کہ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی کمی کو دوسرا آدمی پورا کرے۔ ایک کی خصوصیت دوسرے کے کام آئے۔ اگر لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے اختلاف کو گوارا کرنے کا مزاج ہو تو یہ اختلاف مجموعی انسانی ترقی کا ایک طاقتور وسیلہ بن جائے گا۔
1947 کے بعد جب انڈیا میں پہلی آزاد حکومت بنی تو اس میں دواہم لیڈر شامل تھے۔ ایک پنڈت جواہر لال نہرو ( وفات 1964 ) ، دوسرے سردار ولبھ بھائی پٹیل ( وفات 1950 ) ۔ پنڈت نہرو کے اندر مغربیت تھی اور سردار پٹیل کے اندر مشرقیت۔ اس بنا پر دونوں لیڈروں میں اکثر رائے کا اختلاف ہو جاتا تھا۔ مگر یہ اختلاف قوم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا۔ کیوں کہ پنڈت نہرو کی صلاحیت سے سردار پٹیل کی کمی پوری ہوئی، اور سردار پٹیل کی صلاحیت پنڈت نہرو کی کمی کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ ایک قریبی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائے اور طبیعت کا اختلاف انسانی کی عمومی ترقی کے لیے کتنا زیادہ ضروری ہے۔
رواداری کی خصلت آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو غیر ضروری چیزوں میں ضائع کرنے لگے۔ جب آپ کسی دوسرے کی خلاف مزاج بات سے منفی اثر قبول کر لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال بگڑ جائے گا۔ اس کے برعکس، جب اس طرح کی صورت پیش آنے پر آپ اس کا منفی اثر نہ لیں تو آپ کا ذہنی اعتدال پوری طرح برقرار رہے گا۔ آپ اپنا ایک لمحہ کھوئے بغیر ایک نارمل انسان کی طرح ہمیشہ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ رواداری اور تحمل کی پالیسی آپ کی کارکردگی کی عمر کو بڑھاتی ہے اور نارواداری اور عدم تحمل کا رویہ آپ کی کارکردگی کی عمر کو گھٹا دیتا ہے۔ رواداری یا ٹالرنس کوئی مجبورانہ فعل نہیں، وہ زندگی کا ایک مثبت اصول ہے۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی کردار ہے۔ کسی سماج میں روادار انسانوں کا ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی باغ میں پھولوں کا ہونا۔ پھول کے بغیر باغ نہیں، اسی طرح روادار انسانوں کے بغیر ترقی یافتہ سماج نہیں۔ ( آل انڈیا ریڈیو ممبئی سے 3 مارچ 1995 کو نشر کیا گیا )
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues