Al-Risala · March 2026 · page 38

اسلام کی خدمت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۸

جو لوگ اپنے آپ کو مشکل حالات میں پائیں وہ اسے اپنی بدقسمتی تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ صرف سمجھنے کی غلطی ہے اگر صحیح ذہن ہو اور عزم بیدار ہو تو مشکل حالات اس سے زیادہ بڑی چیزیں دیتے ہیں۔ جو آسانیوں اور راحتوں میں کسی کو ملتی ہے۔ دشواریاں آپ کو اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے آشنا کرتی ہیں۔ آپ کے اندر سوز و درد پیدا کر کے آپ کے کلام کو بے پناہ بنا دیتی ہیں مشکلات کو عبور کرنے کا نیا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور بالآخر آپ کو ان بلند ترین انسانوں میں شامل کرتی ہیں جن کو تاریخ خواں کے مقابلے میں تاریخ ساز کہا جاتا ہے۔

اوپر جس واقعے کا حوالہ دیا گیا، وہ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کا واقعہ ہے اور جس نے مذکورہ تقریر کی، وہ مولانا مجیب اللہ ندوی (2006-1918) تھے ۔ اب خدا کے فضل سے یہ ادارہ ”چھپر “ کے دور سے نکل کر ” بلڈنگ “ کے دور میں داخل ہو گیا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملت کو ایک نئی راہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر بار جب کوئی شخص نیا کام شروع کرتا ہے، تو اس راستہ میں غیر یقینی صورت حال سے لازماً دوچار ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ صبر اور امید کے ساتھ جما رہے تو استحکام کے مرحلہ پر پہنچنے سے کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا۔ (الرسالہ ، اپریل 1977)

اسلام کی خدمت

جامعہ دارالسلام کے چار طلبہ ملاقات کے لیے آئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں صحافت کے ذریعہ اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی خدمت کسی صحافت یا غیر صحافت کے ذریعہ نہیں ہوتی، اسلام کی خدمت صبر اور محنت کے ذریعہ ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر صبر اور محنت کی صفت پیدا کر لیں تو آپ جہاں بھی رہیں گے آپ کامیاب طور پر اسلام کی خدمت کر سکیں گے۔ اور اگر صبر اور محنت کی صفت آپ کے اندر نہیں ہے تو کہیں بھی آپ اسلام کی مفید خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ (ڈائری ، 14 اگست 1996)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page