جانا ہے بہت دور
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۳۷
جانا ہے بہت دور
ایک بزرگ نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ شروع شروع میں اس تعلیم گاہ کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں نہ ملتیں طلبا کے لیے بعض اوقات کھانے کا انتظام ناممکن ہو جاتا۔ چھپر کے سایہ کے نیچے تعلیم دی جاتی اس طرح کی بے شمار دشواریوں کے درمیان اس درس گاہ کو سفر کرنا پڑا۔
مگر دشواریاں جس طرح آدمی سے کچھ چیزیں چھینتی ہیں، اسی طرح وہ اسے کچھ چیزیں دیتی بھی ہیں۔ ظاہری اسباب کی کمی عزم و ہمت کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے جذبات اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں جو فراوانی کے اندر کبھی پیدا نہیں ہوتے۔
اس تعلیمی ادارے کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے ایک روز سارے ادارے میں اداسی چھائی ہوئی تھی۔ حالات بے حد نامساعد نظر آ رہے تھے۔ درس گاہ کے ناظم نے طلبا واساتذہ کا ایک اجتماع کیا جب وہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکلا:
”موجودہ حالات میں ممکن ہے آپ کا جی ملامت کرتا ہو کہ آپ کہاں آ کر پھنس گئے۔ کسی بنی بنائی درس گاہ میں گئے ہوتے تو آرام سے رہ سکتے تھے۔ مگر یہ گھبرانے کی بات نہیں، کیونکہ دوسرے اگر حال کے وارث ہیں تو یہاں آپ ایک نئے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔ لوگ تاریخ خواں ہوتے ہیں مگر آپ کو قدرت نے ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آپ تاریخ ساز بن سکتے ہیں۔ “ یہ الفاظ جن حالات میں کہے گئے تھے اس کے اعتبار سے وہاں اس نے بجلی کا کام کیا۔ طلبہ اور اساتذہ میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔ وہ زندگی کی ایک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر سے آشنا ہوئے۔ یہ کہ مستقبل کی تعمیر کے لیے حال میں جد و جہد کی جائے۔ یہ قدر، نفسیاتی طور پر، اس وقت ان کے لیے لا معلوم رہتی جب کہ وہ ایسے حالات میں نہ ہوتے۔ اسی طرح ناظم درس گاہ کی زبان سے بھی ہرگز یہ الفاظ نہ نکلتے اگر وہ آسودگی اور فارغ البالی میں ہوتے۔ ناظم اس لیے یہ الفاظ بول سکے اور سننے والے اسی لیے ان کو سمجھ سکے کہ وہ دشوار حالات میں تھے۔ آسانیوں کی فضا میں انھیں یہ سبق نہیں مل سکتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues