دو دنیاؤں کا فرق
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۴۳
اپنے موافق کے لیے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے "اکابر" پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہ ہو، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے بلائیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں کوئی اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں، پھر وہاں اعلیٰ درجہ کے انسان کیوں کر پیدا ہو سکتے ہیں۔
آج اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لیے مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والے اعلیٰ افراد درکار ہیں۔ مگر موجودہ اسلامی اداروں میں اکابر پرستی اور تقلید شخصی کا ماحول اتنی گہرائی کے ساتھ چھایا ہوا ہے کہ ان اداروں سے مجتہدانہ اوصاف والی شخصیت کا پیدا ہونا ممکن نہیں۔ ان اداروں سے کسی اعلیٰ انسان کا ابھرنا ویساہی ایک عجوبہ ہوگا جیسا کسی قبرستان سے ایک زندہ انسان کا نکل آنا۔ (سفر نامہ غیر ملکی اسفار، جلد 2، روس کا سفر) زمانے سے بے خبری علما نے کہا ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے احوال سے واقف نہ ہو، وہ جاہل ہے: مَنْ لَّمْ يَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلُ ( ردالمحتار لابن عابدین ، جلد 3، صفحہ 724)۔ یہ بات ذاتی عمل کے لیے نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے، جو دوسروں کے درمیان کام کرنے کے لیے اٹھیں۔ ذاتی عمل کے لیے محدود علم بھی کافی ہے۔ مگر اجتماعی معاملات پر لکھنے اور بولنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ آدمی دوسروں کے بارے میں بھر پور واقفیت رکھتا ہو۔ جو اپنے زمانے کے احوال سے بے خبر ہو اس کے لیے مفتی یا قائد بننا سرے سے جائز ہی نہیں۔ (ڈائری ، 12 جنوری 1996)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues