موجودہ دینی مدارس
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۴۴
موجودہ دینی مدارس
دینی مدارس ، بلاشبہ موجودہ زمانہ میں اہم دینی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ ان کے افادی پہلو پر اتنا زیادہ لکھا جا چکا ہے کہ میری طرف سے اس سلسلے میں صرف تصدیق کافی ہے۔ اس پر مزید اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ تاہم دینی مدارس کی بعض علامات مثلاً ان میں باہمی اختلاف بلکہ تصادم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں مسلمہ خوبیوں کے باوجود ، کوئی کمی ہے۔ اگر کمی نہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ مدارس مسلمانوں کی باہمی جنگ کا میدان بن جائیں ۔ حالاں کہ مسلمانوں کی باہمی جنگ سراسر حرام ہے۔
میرے نزدیک وہ کمی یہ ہے کہ یہ مدارس اپنے افراد کو صرف داخلی نشانہ دیتے ہیں ، وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہیں دیتے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ داخلی نشانہ بالآخر باہمی ٹکراؤ پیدا کرتا ہے۔ جب کہ خارجی نشانہ یہ کرتا ہے کہ قوتوں کو خارج کی طرف موڑ کر لوگوں کو آپس کے تصادم سے بچا لیتا ہے۔ وہ قوتوں کو خارجی محاذ پر لگا دیتا ہے۔
موجودہ دینی مدارس کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ تحفظ کی نفسیات کے زیر اثر وجود میں آئے۔ چنانچہ ان کا سارا نظام اور نصاب تحفظ کے تحت بنا۔ بالفاظ دیگر ان مدارس نے اول روز سے مسلمانوں کو صرف داخلی نشانہ دیا۔ وہ ان کو کوئی خارجی نشانہ نہ دے سکے۔ اور جس قوم کے افراد کے پاس صرف داخلی نشانہ ہو ، وہ ایک حد پر پہنچ کر ہمیشہ آپس میں ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں۔ قرآن میں دینی تعلیم کا جو تصور دیا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایسے افراد تیار ہوں ، جو اقوامِ عالم پر انذار کا کام کریں (التوبہ، 9:122)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی اداروں کا اہم ترین مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کے افراد کو عمل کا خارجی نشانہ دے سکیں۔ تاہم خارجی نشانہ سے میری مراد پرامن خارجی نشانہ ہے ، نہ کہ اس قسم کا جارحانہ خارجی نشانہ جس کو موجودہ زمانہ کے جھوٹے قائدین نے دریافت کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues