ہمارے مدارس
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۴۷
کے لیے وہ قائم کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ خدا کی عظمت کا تذکرہ کریں اور جنت و جہنم کو یاد کریں تو آپ کے اندر خشوع اور تقویٰ کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ظاہری جزئیات اور لفظی موشگافیوں میں بحث و مباحثہ کریں تو اس سے آپ کو صرف قساوت کی غذا ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مدارس سے بڑی تعداد میں ایسے لوگ نکلتے ہیں جن میں خشوع اور تقویٰ کے بجائے غفلت اور ایک سبق آموز واقعہ ایک دیوبندی عالم سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو انھوں نے بتایا کہ ایک بار ہمارے مدرسہ میں امتحان کے پرچہ میں ایک سوال یہ تھا کہ اخلاق اور معاشرت سے متعلق دو حدیث لکھیے ۔ مگر بہت کم طلبہ اس کے جواب میں دو حدیث لکھ سکے۔ حالانکہ انہیں طلبہ کا حال یہ تھا کہ رفع یدین اور اس قسم کے دوسرے اختلافی مسائل پر سوال ہو تو وہ اس کے جواب میں گھنٹوں تقریر کر سکتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان طلبہ کو جب حدیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تو استاد اخلاق اور معاشرت جیسی حدیثوں کی صرف لفظی قرأت کر کے گزر جاتا ہے مگر جب رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے اختلافی مسائل آتے ہیں تو وہ ان پر کئی کئی دن تک تقریر کرتا ہے اور ان پر اپنی معلومات کا دریا بہاتا ہے۔ یہ طریقہ درس ظاہر ہے کہ اسی قسم کے علما پیدا کرے گا جس کا ذکر مذکورہ دیوبندی عالم نے کیا۔
(ڈائری، 14 فروری 1998)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues