Al-Risala · March 2026 · page 46

ہمارے مدارس

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۶، صفحہ ۴۶

ہمارے مدارس

صحابہ ہمیشہ اساسات دین پر متوجہ رہتے تھے۔ مگر بعد کو عباسی خلافت کے زمانہ میں دوسری قوموں کے اثر سے مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ وہ اساسات دین کے بجائے جزئیات دین کو طے کرنے میں الجھ گئے۔ ان کے درمیان عجمی قوموں کے اختلاط سے نئے نئے مسائل پر بحثیں ہونے لگیں۔ یہ بحثیں حقیقتاً ان امور پر نہ تھیں، جو قرآن وحدیث میں واضح الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ بلکہ زیادہ تر ان پہلوؤں پر تھیں جو لوگوں نے اپنے غیر ضروری قسم کے خوض و تعمق سے خود پیدا کیا تھا۔ فقہ میں جزئیاتی امور پر بحثیں پیدا ہوگئیں اور اعتقادیات میں کلامی موشگافیوں سے پیدا شدہ مسائل لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت جو اسلامی نظام تعلیم بنا، اس میں انھیں فقہی اور اعتقادی بحثوں نے سب سے زیادہ جگہ حاصل کر لی۔ حتیٰ کہ خود قرآن وحدیث بھی اب انھیں اختلافی بحثوں کی روشنی میں پڑھائے جانے لگے۔ یہ انداز تعلیم جو ابتداءً عباسی دور میں رائج ہوا، بعد کو مقدس بن کر اسلامی نظام تعلیم کا لازمی جزء بن گیا اور آج بھی وہ کسی نہ کسی طرح اس کا لازمی جزء بنا ہوا ہے۔ جو چیز صرف اسلام کی تاریخ تھی اس کو اسلام کی حقیقت سمجھ لیا گیا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی درس گاہوں سے بالکل مختلف انسان بن کر نکلنے لگے جو قرآن کو مطلوب تھے۔ قرآن (35:28) کے مطابق، اللہ تعالیٰ کو اسلامی تعلیم سے ایسے انسان مطلوب ہیں جو اللہ سے ڈریں (اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء) ، اور جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ (9:122) ہے، وہ دنیا کے لوگوں کو آنے والے سخت دن سے ہوشیار کریں (لِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمُ) ۔ مگر اب اسلام کے تعلیمی نظام سے ایسے لوگ پیدا ہونے لگے جو جزئیاتی بحثوں کے ماہر ہوں اور اختلافی مسائل میں کمال فن کی داد دے سکیں۔

اس فرق کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے مدارس سے وہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکا جس مقصد

‹ Previous page Next page › Contents of March 2026 All issues

Printed page