شر میں خیر
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۱۳
شر میں خیر
5 ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو افک کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نا خوش گوار واقعہ تھا۔ اس کی تفصیل قرآن کی سورۃ النور (21-24:11) اور حدیث اور سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس نا خوش گوار واقعے کے تذکرے کے ذیل میں ایک حکمانہ نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے: لا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (24:11)۔ یعنی، تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔
قرآن کی اس آیت کا تعلق صرف افک کے واقعے سے نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ایک اصولی اور آفاقی تعلیم دی گئی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اُس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی شر (نا موافق صورتِ حال) صرف شرنہیں، بلکہ اس دنیا میں ہر شر کے اندر ایک خیر (موافق صورتِ حال) کا پہلو چھپا ہوا ہے:
There is good in every evil.
قدیم مدینہ میں افک کا جو واقعہ پیش آیا، وہ بظاہر شر کا ایک واقعہ تھا، مگر اُس میں خیر کا ایک پہلو چھپا گہرائی کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ یہ کہ اس کی وجہ سے مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا چرچا بہت بڑھ گیا۔ پروپیگنڈے کی اس فضا کے دوران لوگوں کے اندر اسلام کے بارے میں بڑے پیمانے پر تجسس (curiosity) کا مزاج پیدا ہوا۔ لوگ چاہنے لگے کہ وہ جانیں کہ اسلام کیا ہے اور پیغمبر اسلام کا مشن کیا ہے۔ یہ گویا اسلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک نیا موقع تھا۔ اہلِ ایمان نے اس موقع کو پر امن طور پر استعمال کیا، یہاں تک کہ اسلام کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ یہی صورتِ حال آج بھی ساری دنیا میں پائی جاتی ہے۔ موجودہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا ہے۔ اس پروپیگنڈے نے موجودہ زمانے میں اسلامی دعوت کے لیے عظیم مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان مواقع کو پر امن انداز میں بھر پور طور پر استعمال کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues