Al-Risala · January 2026 · page 14

کوئی مصیبت، مصیبت نہیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۱۴

کوئی مصیبت، مصیبت نہیں

غزوہ احد 3 ھ میں پیش آیا۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ غزوہ احد کے ذیل میں کتابوں میں بہت سے واقعات آئے ہیں، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلیى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي دِينَارٍ، وَقَدْ أُصِيبَ زَوْجُهَا وَأَخُوهَا وَأَبُوهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأُحُدٍ، فَلَمَّا نَعَوْهَا لَهَا، قَالَتْ: فَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؟ قَالُوا: خَيْرًا يَا أُمَّ فُلَانٍ، هُوَ بِحَمْدِ اللَّهِ كَمَا تُحِبِّينَ، قَالَتْ: أَرُونِيهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَأُشِيرَ لَهَا إِلَيْهِ، حَتَّى إِذَا رَأَتْهُ قَالَتْ: كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ ! (سیرت ابن هشام، جلد 2، صفحه (99) ۔ یعنی، رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم انصار کے قبیلہ بنودینار کی ایک عورت کے پاس سے گزرے، جس کے شوہر اور بھائی اور باپ احد کے دن رسول اللہ کی طرف سے قتل ہو گئے تھے۔ جب اس کو ان تینوں کے موت کی خبر پہنچی تو اس نے کہا: رسول اللہ کا کیا ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ الحمدللہ، وہ اچھے ہیں اے ام فلاں، جیسا کہ تم پسند کرتی ہو ۔ اس عورت نے کہا: مجھے دکھاؤ، تا کہ میں ان کو دیکھ لوں۔ لوگوں نے اس عورت کو آپ کی طرف اشارہ کیا، یہاں تک کہ اس نے آپ کو دیکھا، اور کہا: آپ کے بعد ہر مصیبت چھوٹی ہے۔ جس شخص کو اسلام کی سچائی ایک دریافت کے طور پر حاصل ہو جائے ، اسے ایسی حقیقت ملتی ہے جو اس کے نزدیک تمام حقیقتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ وہ چھوٹی باتوں سے اٹھ کر زیادہ بڑی بات میں جینے لگتا ہے۔ ایسا آدمی اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ اگر اس پر کوئی افتاد پڑے تو وہ اس کو معتدل انداز میں برداشت کرلے۔ وہ یہ کہہ سکے کہ چھوٹی مصیبت پیش آئی تو کوئی حرج نہیں۔ بڑا سرمایہ تو ابھی میرے پاس موجود ہے۔

انسان کے اندر یہ ذہن کیسے بنے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی حقیقت پسند بنے۔ وہ چھوٹی باتوں سے اوپر اٹھ کر زیادہ بڑی بات میں جینے والا بن جائے۔ اسی کو حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic approach) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues

Printed page