Al-Risala · May 2026 · page 7

قرآن کے ٹکڑے کرنا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۷

داخلی آمادگی کے بغیر ہدایت نہیں قرآن کی سورۃ الانعام میں ارشاد ہوا ہے:

وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ (6:111)۔ یعنی، اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ساری چیزیں ان کے سامنے اکٹھا کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ اللہ چاہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔

اس آیت میں إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ (الا یہ کہ اللہ چاہے) سے مراد مشیتِ خداوندی نہیں ہے، بلکہ متابعتِ سنتِ الہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ اس کے ساتھ انسان کو وہ عقل دی گئی ہے جو باتوں کی حقیقت کو سمجھے اور صحیح اور غلط میں فرق کر سکے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ جو آدمی اپنی خدا داد عقل کو درست طور پر استعمال نہ کرے، وہ ہدایت سے محروم رہے گا۔

ہدایت کے سلسلے میں اصل چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کو محسوس طور پر تمام حقیقتیں دکھا دی جائیں، بلکہ اس معاملے میں اصل فیصلہ کن چیز یہ ہے کہ آدمی اپنی عقل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ درست طور پر استعمال کرے۔ وہ حاصل شدہ ڈیٹا (data) کا تجزیہ کر کے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ محسوس حقیقتیں خواہ کتنی ہی زیادہ دکھائی جائیں، خواہ سارا عالمِ حقیقت ان کے لیے کھول دیا جائے، لیکن انسان اگر اپنی عقل کو درست طور پر استعمال نہ کرے تو وہ بدستور اندھا بنا رہے گا۔ وہ حقیقتوں کو دیکھ کر بھی حقیقتوں کا اعتراف نہیں کرے گا۔ ابلیس کا واقعہ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے۔ ابلیس تمام حقیقتوں کو محسوس طور پر دیکھ چکا تھا، لیکن اس کی سرکشی نے اس کو اعتراف حق سے محروم رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ داخلی آمادگی کے بغیر کسی چیز کا اعتراف ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page