Al-Risala · May 2026 · page 8

دریافت نہ کہ نفاذ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۸

دریافت نہ کہ نفاذ

گلیلیوگلیلی (1642-1564ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے:۔ کسی کو کوئی چیز سکھانا تمھارے بس میں نہیں ہے، تم صرف اس کی مدد کر سکتے ہو کہ وہ اس چیز کو بذاتِ خود دریافت کرے:۔

You cannot teach a man anything; you can only help him discover it himself. یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے جو طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا، وہ یہ ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِيْ أَنْفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيْغًا (4:63)، یعنی، اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اترنے والی ہو۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ لوگوں سے زور زبردستی اپنی بات نہ منواؤ، بلکہ ان سے ایسی زبان میں خطاب کرو جو ان کے لیے قابلِ فہم ہو اور ان کے ذہن کو ایڈریس کرے۔

اسلام نفاذ (enforcement) کا موضوع نہیں ہے۔ بلکہ وہ انسانی ذہن کو ایڈریس کرنے کا موضوع ہے۔ تا کہ انسان خدائی پیغام کو ڈسکور کر کے خدا کے آگے خود کو سرینڈر کرے۔ قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا دار الامتحان (الملک، 67:2) ہے، امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ تا کہ وہ اپنے اختیار (choice) سے اس کو مانے یا اس کا انکار کرے ۔ قرآن میں ہے: فَذَكِّرْ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ ۝ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (88:21-22)، یعنی، پس تم یاد دہانی کر دو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں۔ قول بلیغ میں کلام کرنے سے مخاطب کے اندر سنجیدگی کے ساتھ آپ کی باتوں پر غور و فِکر کا ذہن پیدا ہوتا ہے، اس کی غفلت ٹوٹتی ہے، اس کے اندر نیا تقیری عمل (thinking process) جاری ہو جاتا ہے، اور وہ چیزوں پر از سرِ نو غور کرنے لگتا ہے۔ اس کے اندر ایک نیا مزاج ڈیولپ ہوتا ہے، جس کو قرآن میں معرفت یا عرفانِ حق (5:83) یا ربانی مزاج (3:79) کہا گیا ہے۔ اسی حقیقت کو گلیلیو نے سائنس کے ریفرنس میں سیلف ڈسکوری سے تعبیر کیا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page