Al-Risala · May 2026 · page 9

درخت کلچر

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۹

درخت کلچر

قرآن میں ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ درخت جس کلچر کو مادی طور پر اپنائے ہوئے ہے، اس کلچر کو ایک صاحب ایمان شعوری طور پر اختیار کرتا ہے۔ مثلاً درخت مادی قانون کے تحت بیج (seed) سے ترقی کر کے اپنے آپ کو ایک پورا درخت بناتا ہے۔ یہ واقعہ مومن کی زندگی میں اس کے ایمانی شعور کے تحت پیش آتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ انسان جب سانس لیتا ہے تو وہ سانس کے اخراج کے وقت اپنے اندر سے ایک گیس نکالتا ہے، جس کو کاربن ڈائی آکسائڈ کہا جاتا ہے۔ یہ گیس انسان کے لیے ایک مضر گیس کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن درخت کاربن ڈائی آکسائڈ لیتا ہے اور آکسیجن چھوڑتا ہے۔ درخت اس چیز کو اپنی غذا بنا لیتا ہے، جس کو انسان نے ایک مضر گیس کے طور پر اپنے اندر سے خارج کیا تھا۔

یہ واقعہ جو درخت کے اندر ایک جبری قانون کے تحت پیش آتا ہے، وہی انسان کو اپنے آزاد ارادے کے تحت کرنا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ منفی تجربات کو اپنے لیے مثبت غذا بنائے۔ وہ غیر موافق خوراک کو اپنے لیے موافق خوراک میں تبدیل کرے۔

اس کی ایک مثال قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت یہ ہے: وَاِذَا مَا غَضِبُوَا هُمُ يَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی، مومن کو جب غصہ آتا ہے تو وہ غصہ دلانے والے کو معاف کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن اعلیٰ ذہن کا مالک ہوتا ہے، اگر کسی شخص کی طرف سے اس کو اشتعال انگیز تجربہ پیش آئے تو وہ اپنے ذہنی ارتقا کی بنا پر اس قابل ہوتا ہے کہ اس ناخوشگوار تجربے کو مثبت انداز میں لے، وہ غصہ کو معافی میں کنورٹ کرے، وہ غصہ کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کرے ۔ مومن شکایت کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مومن اعلیٰ حقیقتوں میں جینے کی بنا پر اس صلاحیت کا مالک ہو جاتا ہے کہ وہ شکایت کے ماحول میں بھی بے شکایت بن کر رہ سکے، لوگوں کے بارے میں اس کی خیر خواہی کبھی ختم نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page