Al-Risala · May 2026 · page 13

پوری زمین مسجد

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۳

پوری زمین مسجد

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد (حدیث نمبر 22137) کے الفاظ یہ ہیں: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ پوری زمین کو میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنا دیا گیا ہے (وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا)۔ اس حدیث میں یہ خوش خبری ہے کہ آنے والا دور عالمی اظہارِ دین کا دور ہے۔ ایک وقت آنے والا ہے، جب کہ پوری زمین امت کے لیے دائرہ کار بن جائے گی۔ ان کے لیے پوری دنیا میں اسی طرح پرامن طریقے سے خدائی مشن کا کام کرنا ممکن ہوگا، جیسے کہ وہ مسجد میں پرسکون طریقے سے عبادت کا کام انجام دیتے ہیں۔ اس روایت میں مسجد صرف مقام سجدہ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وسیع تر معنی میں ہے۔ یعنی پوری دنیا آپ کے لیے مواقع کی دنیا بنا دی گئی ہے۔ اب شکایت نہیں کرنا ہے، بلکہ مواقع کو تلاش کر کے اپنا کام کرنا ہے۔ پوری انسانیت کو خدا کے پیغام سے آگاہ کرنے کا کام کرو۔ اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت کا مشن مکمل طور پر ایک پیس فل (peaceful) دعوہ مشن ہے، جیسے کوئی مسجد میں پرامن طریقے سے عبادت کا کام کرتا ہے۔ پیس فل دعوہ ورک کرنے والوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ کامیابی کے ساتھ سارے عالم کو اپنا ورک پلیس (workplace) بنائے دوسرے الفاظ میں یہ حدیث دور جدید کی پیشین گوئی ہے۔ یہی وہ دورِ جدید ہے جس میں انسانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور دوسروں کو اس سے باخبر کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ اور یہ اس کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ قدیم دور مذہبی جبر کا دور تھا۔ اس دور میں کسی انسان کو نہ اپنی چوائس (choice) کے مذہب پر عمل کی آزادی تھی، اور نہ ہی وہ اس کی تبلیغ کر سکتا تھا۔ دور جدید تمام تر اہل مغرب کی دَین ہے، حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم بھی اسلام کی تائید کا کام کریں گے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی، بے شک اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا، جو اہل (دین) میں سے نہ ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page