پوری زمین مسجد
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۴
دورِ جدید حقیقت میں دورِ دعوت ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے دورِ انسانیت ہے، یعنی داعی تمام انسانوں کے لئے یک طرفہ طور پر خیر خواہ ہوتا ہے۔ اب داعی کی پلاننگ یونیورسل پلاننگ ہونی چاہیے۔ شرط صرف یہ ہے کہ داعی کے دل میں بالکل بھی منفی سوچ (negativity) نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارا آؤٹ لک یونیورسل آؤٹ لک ہونا چاہیے۔ پوری دنیا ہمارے لیے مدعو ہے، اور ہم پوری دنیا کے لیے داعی ہیں۔ ایک مرتبہ پیغمبرِ اسلام نے کہا تھا: كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 417)۔ یعنی، ایک کلمہ جو تم قبول کرو گے، اس کے ذریعے تم عرب پر غلبہ حاصل کر لو گے، اور عجم تمھارے آگے جھک جائیں گے۔ یہ گویا اہلِ اسلام کے لیے رہنمائی ہے کہ آنے والے دور میں ان کو کیا کام کرنا ہے۔ وہ کام ہے پوری دنیا میں توحید کا کلمہ یعنی توحید کی آئیڈیالوجی کو پہنچانا۔ اوپر مذکور مسجد والی حدیث کورسول اللہ کے اس دوسرے قول کے ساتھ ملایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ساری دنیا میں اہلِ ایمان کو دین پر عمل کرنے اور دین کی دعوت دینے کی آزادی ہوگی تو امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دور کو اپنے لیے خدا کا عطیہ سمجھیں، اور پرامن طریقے سے ساری دنیا میں توحید کا کلمہ پہنچائیں۔ نصاب یا محرّک اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف نصاب کافی نہیں ہے، بلکہ کمپٹیشن کا ماحول انتہائی ضروری ہے۔ اصل یہ ہے کہ کسی بھی میدان میں ترقی کے لیے محرّک (motivation) درکار ہوتا ہے۔ کمپٹیشن کا ماڈل ماٹیویٹنگ ماڈل (motivating model) ہے۔ مگر مسلم قوم کے اندر جن لوگوں نے تعلیم کے میدان میں کام کیا، انھوں نے زیادہ تر نصاب بنانے پر زور دیا، کمپٹیشن کو نظر انداز کر دیا۔ اس لیے مسلم قائدین تعلیم تعلیم کہتے رہتے ہیں، مگر مسلم قوم کو عملاً کچھ حاصل نہیں ہوتا۔