اہل کتاب سے سیکھو
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۶
تجربے اور کس پلیٹ فارم کو استعمال کریں، اور کس کو پیس۔ آنے والا دور یونیورسل آؤٹ لک کا دور ہے۔ اب ساری دنیا مشترک طور پر ہر ایک کا پلیٹ فارم ہے۔ آپ اگر نہیں فل اور پازیٹیو انداز اختیار کریں تو ساری دنیا آپ ہی کا پلیٹ فارم ہے۔
دور جدید میں اہل کتاب کون لوگ ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ڈائسپورامیں بھیجے گئے۔ ڈائسپورامیں بھیجنے کا مقصد کنڈیشننگ توڑنا تھا۔ جدید دوراسی ڈی کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے۔ اب اہل ایمان کی ذمے داری ہے کہ وہ خدا کے منصوبے کو دریافت کریں، اور اس میں اپنے آپ کو لگانے کے لیے دوڑ پڑیں۔ وہ خدا کے مشن کو کامیابی کے ساتھ گلوبل لیول پر جاری کرنے کے لیے اہل کتاب کے ڈسکور ڈعلم اور تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔ سی پی ایس علما کو وصیت میرے مرنے کے بعد آپ کو میری چرچا نہیں کرنی ہے، بلکہ میرے چھوڑے ہوئے دعوتی مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ میرا مشن کیا ہے۔ شخصیت کو چھوڑو، عظمتِ خداوندی کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ حدیث میں ہے: لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3445)۔ یعنی میرا بیان بڑھا چڑھا کر نہ کرو، جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کا بیان کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی چرچا میں نہیں لگنا چاہیے۔ جیسا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر نے ایک وفد ایک قوم کی طرف بھیجا تو ان سے کہا کہ ان کو حدیث نہ سنانا، کیوں کہ وہ قرآن میں مصروف ہیں: إِنَّكُمْ تَأْتُونَ أَهْلَ قَرْيَةٍ لَهُمْ دَوِيٌّ بِالْقُرْآنِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْأَحَادِيثِ، فَتَشْغَلُوهُمْ (شرح مشکل الآثار، اثر نمبر 6049)۔ اس کو منکرین حدیث، حدیث رسول کے انکار کے لیے بطور استدلال پیش کرتے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے۔ حضرت عمر کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کے چرچے میں ہیں، تم ان کو رسول کے چرچے میں مصروف نہ کرو۔ یہی میری وصیت اپنی ذات کے لیے ہے۔ (بحوالہ ڈائری مولانا خطیب اسرار الحسن عمری، تامل ناڈو، 31 جنوری 2012)