اہل کتاب سے سیکھو
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۵
اہل کتاب سے سیکھو
بیسویں صدی عیسوی مسلم سرگرمیوں کی صدی تھی۔ مسلمانوں کے تمام بڑے بڑے لیڈر اس صدی میں پیدا ہوئے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یقیناً مسلمانوں نے اس صدی میں صرف کھویا ہے، پایا کچھ بھی نہیں۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا۔ کنڈیشنڈ سوچ کے تحت اپنے اقدامات کی منصوبہ بندی کرنا۔ یعنی مسلمانوں کے اندر سیاسی ناکامیوں کے نتیجے میں یہ مفروضہ سوچ پیدا ہو گئی کہ امت مسلمہ کے باہر کوئی ان کا خیر خواہ نہیں ہے، تمام لوگ ان کے اور ان کے دین کے دشمن ہیں، وہ ان کے خلاف سازش کرنے والے ہیں۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے امت نے اہل مغرب اور ان کے ذریعے وجود میں آنے والی جدید تہذیب یعنی سائنسٰی تہذیب کو ایک دشمن تہذیب یا سازش سمجھا۔ اس بنا پر وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ کسی قوم کی کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہوتی ہے، جب کہ وہ زمانی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر کی جائے۔ مگر مسلمانوں کی کوششیں زمانی تقاضوں کے مطابق نہ تھیں، اس لیے وہ ناکام رہیں۔ مثلاً یہ کہ قدیم ٹرائبل ایج میں ملٹری قوت کی بنیاد پر کامیابی ملتی تھی، مگر جدید دور میں سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد پر قومیں ترقی کر رہی ہیں، وغیرہ۔ امت مسلمہ اپنی کنڈیشنڈ سوچ کی بنا پر اس زمانی تبدیلی کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ چنانچہ ان کی ساری کوششیں بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی یہ سوچ درست سوچ نہ تھی کہ اہل کتاب سے علم اور تجربے کی سطح پر استفادہ نہ کیا جائے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی، اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک اہل ذکر سے مراد اہل کتاب ہیں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ لرننگ کے لیے امت کا دائرہ کیا ہے۔ امت کے لیے لرننگ کا دائرہ امت کے باہر کے افراد بھی ہیں۔ یعنی قرآن کے نزول کے بعد وہ دور اب ختم ہو گیا کہ آپ یہ سوچیں کہ تعارف اسلام کے لیے کس کے علم اور