جنگ کا حکم
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۱۶
جنگ کا حکم
قرآن میں ایک آیت آئی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے: تم کو جنگ کا حکم ہوا ہے اور وہ تم کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بھلی ہو۔ اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے (2:216)۔ فقہائے اسلام کے نزدیک اسلام میں جنگ کی حیثیت حسن لغیرہ کی ہے، نہ کہ نماز و روزہ کی مانند کوئی ابدی شریعت۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ساتویں صدی سے پہلے، جب اسلام آیا، تاریخ میں صدیوں کے اثر سے ایک غلط رواج قائم (establish) ہو چکا تھا۔ طویل تاریخی روایت کے نتیجے میں مذہب لوگوں کے لیے سیاسی وفاداری کا معیار بن چکا تھا، یعنی جو شخص حاکم کے مذہب پر ہوتا، وہ ریاست کا وفادار سمجھا جاتا، اور جو حاکم کے مذہب پر نہ ہوتا، وہ ریاست کا وفادار بھی نہیں مانا جاتا تھا۔ اسی بنیاد پر یہ ایک مبرر حکم (justified act) بن گیا تھا کہ حاکم وقت کے مذہب سے انحراف کرنے والے کو قتل کر دیا جائے، یا ایسے لوگوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کر کے ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اسی رواج کے نتیجہ میں سماج میں وہ سنگین برائی پیدا ہوئی جسے مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔
اسلام میں جب جنگ کا حکم آیا تو جو لوگ اس معاملے کو گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھ رہے تھے، ان کے لیے یہ ایک گرہ (ناگواری) کا معاملہ تھا (البقرۃ، 2:216)۔ حالانکہ یہ ایک وقتی رکاوٹ کو دور کرنے کا معاملہ تھا۔ اسلام نے یہ چاہا کہ سخت کارروائی (strong action) کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ تا کہ اگلی نسلوں کے لیے امن اور آزادی کے ساتھ سچے مذہب کو چننے اور اس پر عمل کرنے کے مواقع حاصل ہو جائیں۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ میں ایک مستقل تبدیلی کا دور آنے والا تھا۔ اس کے نتیجہ میں پہلی بار دنیا میں پرامن دور آنے والا تھا، اور ہمیشہ کے لیے کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی سطح پر مذہب کے تعارف کا دروازہ کھلنے والا تھا۔ گویا کہ یہ جنگ، جنگ کے آغاز کے معنی میں نہیں تھی، بلکہ جنگ کے خاتمہ کے معنی میں تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues