کامیاب انسان
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۶، صفحہ ۱۵
کامیاب انسان
کامیاب انسان کون ہے۔ کامیاب انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر مستقبل بینی کی صفت پائی جائے، اور مستقبل بینی کثرتِ مطالعہ اور کثرتِ غور و فکر سے پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً رسول اللہ نے اپنی تحریک میں کئی بار ایسا کیا کہ بظاہر پسپائی کا طریقہ اختیار کیا۔ کیوں کہ آپ کی مستقبل بینی نے آپ کو بتایا کہ بظاہر وقتی پسپائی میں آپ کے لیے پیش قدمی کا راستہ کھلے گا۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا دعوتی مشن چلایا۔ لیکن معاملہ جب خراب ہونے لگا، یعنی مکہ میں آپ کا رہنا دشوار ہو گیا تو آپ نے مکہ سے ہجرت کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے بعد جب آپ مدینہ آگئے تو یہاں بھی اہل مکہ نے آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا۔ لیکن آپ نے دوبارہ حدیبیہ کے مقام پر یک طرفہ طور پر فریقِ ثانی کی شرطوں کو مان کر ان سے دس سالہ ناجنگ معاہدہ کر لیا۔ اس سے تعارفِ اسلام کا میدان آپ کے لیے پوری طرح کھل گیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا، وہ اسلامی تاریخ میں فتح مبین (الفتح، 48:1) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی کھلی فتح۔ مستقبل بینی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے اندر آبجیکٹیو تھنکنگ (objective thinking) موجود ہو۔ آبجیکٹیو تھنکنگ کا مطلب ہے- جذبات کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھنے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر چیزوں کو دیکھنا:
When you do something objectively, you do it with an open mind, considering the facts rather than your personal feelings. آبجیکٹیو تھنکنگ سے دوری کا سب سے بڑا سبب کسی چیز کے بارے میں غلو آمیز تصور رکھنا ہے۔ یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ کے ساتھ چیزوں کو دیکھنا۔ اس قسم کا انحراف یا ڈسٹریکشن (distraction) کسی انسان کے لیے بے حد سنگین ہے۔ وہ انسان کو اس صفت سے محروم کر دیتا ہے کہ وہ چیزوں کو ایزاٹ از(as it is) دیکھ سکے، وہ چیزوں کو مواقع کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائے مسائل کے اعتبار سے دیکھنے لگتا ہے۔ جب کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان مواقع کو آویل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2026 All issues