Al-Risala · May 2026 · page 19

تشبہ کی ممانعت

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۱۹

تشبہ کی ممانعت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبہ کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا: مَن تشبّه بقوم فَهُوَ منهم (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4031)۔ یعنی، جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔

اس حدیث کے حوالے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تشبہ بالکفار مطلقاً حرام ہے۔ مگر مذکورہ حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں۔ اس حدیث میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے، وہ عمومی مشابہت نہیں ہے۔ اس سے مراد صرف وہ چیز ہے جس کو مذہبی شعار (religious symbol) کہا جاتا ہے۔ مثلا مسیحی لوگوں کا گلے میں صلیب لٹکانا یا ہندو لوگوں کا سر پر چوٹی رکھنا۔ اس حدیث میں اس قسم کی کچھ محدود چیزوں کو استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔ اس حدیث سے عمومی تشبہ کا مفہوم نکالنا بلا شبہ غلو کی حیثیت رکھتا ہے اور غلو سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔

اس غلو کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں ایک چیز پیدا ہوئی ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ بطور خود لوگ اس کو اسلامی شناخت (Islamic identity) کہتے ہیں۔ لیکن کوئی ظاہری چیز اسلام کی شناخت نہیں۔ اسلام کی شناخت اسلامی اخلاق اور اسلامی اقدار (Islamic values) ہیں، نہ کہ کوئی ظاہری چیز۔ ظاہری چیزوں کا تعلق کلچر سے ہے اور کلچر ہمیشہ مختلف ہوتا ہے۔ کوئی مخصوص کلچر کبھی اسلام کی شناخت نہیں بن سکتا۔

کلچر کے معاملے میں عدم مشابہت پر زور دینا ایک شدید نقصان کی قیمت پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ صرف ظاہری چیزوں کے اہتمام ہی کا نام اسلامی زندگی ہے، حالاں کہ اسلامی زندگی یہ ہے کہ اسپرٹ کے اعتبار سے بھی اسلام کا اتباع کیا جائے، مزید یہ کہ اس نظریے کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر ”ہم اور وہ“ (we and they) کا تصور پیدا ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ دعوت الی اللہ کے نام سے غفلت ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگ ملی کام کو کام سمجھیں گے اور عمومی دعوت کے کام سے غافل ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page