تشبہ کی ممانعت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۰
انسان کا المیہ
قرآن کی سورہ الرعد میں زندگی کی ایک حقیقت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (28: یعنی، آگاہ، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اس آیت پر غور کرنے سے نہایت اہم بات معلوم ہوتی ہے۔ اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ۔ اس دنیا میں حقیقی اطمینان صرف ان لوگوں کو ملتا ہے۔ جو اللہ کے تخلیقی پلان پر راضی ہوجائیں : Contentment in this world is only for those who willingly accept the creation plan of God. انسان کی زندگی کو اس کے خالق نے دو دوروں میں تقسیم کیا ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی، اور آخرت کی زندگی۔ موجودہ دنیا عارضی طور پر امتحان کے مقصد کے تحت بنائی گئی ہے، اور آخرت کی دنیا وہ ہے جہاں انسان اپنے عمل کا ابدی انعام پائے گا۔ جنت کا معیاری مقام صرف آخرت میں قابلِ حصول ہے، موجودہ دنیا میں نہیں۔
پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ انسان موجودہ دنیا ہی کو اصل سمجھ کر یہاں اپنی جنت تعمیر کرنا چاہتا ہے، مگر موجودہ دور حیات میں جنت کی معیاری دنیا قابل حصول نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی احساسِ ناکامی میں جیتا ہے اور مایوسی کی حالت میں مر جاتا ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام عورت اور مرد منفی ذہن میں مبتلا رہتے ہیں، خواہ وہ عالم ہوں یا جاہل، امیر ہوں یا غریب ہوں، ہر ایک کی شخصیت منفی شخصیت بنی ہوئی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان آئیڈیل (ideal) کی تلاش میں ہے، جب کہ موجودہ دنیا میں جو چیز اس کو ملتی ہے، وہ آئیڈیل سے کم (less than ideal) ہوتی ہے۔ یہ فطرت کا لازمی قانون ہے۔ فطرت کے اس قانون کو جاننے ہی کا نتیجہ اطمینان ہے، اور فطرت کے اس قانون سے بے خبری کا نتیجہ بے اطمینانی۔ یہی ایک جملے میں ساری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔