خدا کا ذکر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۴
کائنات خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ آدمی اس کے اندر سفر کرتا ہے مگر اس کے سفر میں اور مصنوعی سیارہ کے سفر میں کوئی فرق نہیں۔ انسان خدا کی دنیا میں اپنے صبح و شام بناتا ہے مگر خدا سے اس کی ملاقات نہیں ہوتی۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ نہیں آتا جب کہ خدا سے اس کا سامنا ہو اور وہ اس سے باتیں کرے ۔ خدا کی تجلیوں میں سے کسی تجلی سے اس کی نظر نہیں ٹکراتی جو اس کو تڑپائے اور اس کو اشک بار کردے۔
یکم مئی کا سورج طلوع ہوا اور ہرے بھرے درختوں پر اس کی سنہری کرنیں پڑیں تو درخت اس کی روشنی سے چمک اٹھے۔ چڑیاں پھدکنے اور چہچہانے لگیں۔ درختوں کی شاخیں ہواؤں میں ہلتی ہوئی دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گو یا وہ ربانی نغمہ کوسن کر رقص کر رہی ہوں ۔ سارا ماحول قدرتی حسن کے سیلاب میں ڈوب گیا۔ اچانک میری زبان پر قرآن کی یہ آیتیں آگئیں:
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (39:69)۔ یعنی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ اور کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کیے جائیں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ میں نے کہا، آج کی دنیا سورج کے نور سے روشن ہوتی ہے، آخرت کی دنیا براہ راست نور خداوندی سے روشن ہوگی۔ آج کائنات کی چیزیں خدا کے آلاء (کرشموں) پر غیر ملفوظ حمد کہہ رہی ہیں، آخرت میں ساری کائنات ملفوظ طور پر الحمد للہ رب العالمین کہہ اٹھے گی۔ آج ہر آدمی اپنی مرضی چلانے کے لیے آزاد ہے، آخرت میں کتاب اور میزان عدل کی حکمرانی ہوگی۔ آج دھاندلی اور موقع پرستی زور ہے، آخرت میں صرف ان باتوں میں زور ہوگا جن کو لے کر انبیاء اور شہدا کھڑے ہوئے۔ خدا کے ظہور کے بعد دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہوگی۔ اس کا ابتدائی اندازہ اسی فانی دنیا میں ہو رہا ہے۔ یہاں قدرت کی دنیا کو دیکھیے ۔ سورج یہ مظاہرہ کر رہا ہے کہ تاریک مادہ کس طرح خدا کے حکم سے روشن ہو جاتا ہے۔ درخت یہ منظر پیش کر رہے ہیں کہ خدا کس طرح مادہ کو شاداب درخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ زندگی کی انواع بتا رہی ہیں کہ خدا کا اشارہ پا کر کس طرح بے جان چیز جاندار کی