خدا کا ذکر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۵
صورت اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی دماغ کا حیرت ناک واقعہ بتا رہا ہے کہ بے شعور جسم کس طرح شعور اور ارادہ کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔
خدا کی دنیا کیسی عجیب ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہم یہ سوچیں کہ کیا تمام انسان مل کر ایسی دنیا بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان مل کر ایک پتی بھی نہیں بنا سکتے اور کائنات کا یہی ایک پہلو اس کی حیرت ناکی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
انسان کے لیے کوئی ایسا کارخانہ بنانا ممکن نہیں جس کے اندر مٹی ڈالی جائے اور وہ درخت بن کر نکلے جس کے اندر گھاس ڈالی جائے اور وہ دودھ اور گوشت بن کر نکلے ۔ جس کے اندر لکڑی اور پتھر ڈالا جائے اور وہ پھول اور پھل بن کر نکلے ۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر آن بے حساب مقدار میں یہ سارے واقعات ہورہے ہیں۔
امریکی انسان جب خلائی جہاز کے ذریعہ چاند پر پہنچا تو میں اس روزرات کو ایک اردو اخبار کے دفتر میں گیا۔ اس وقت ٹیلی پرنٹر پر تفصیلات آرہی تھیں اور وہ مسلسل ترجمہ کرکے کاتب صاحبان کو دی جارہی تھیں۔ ایڈیٹر صاحب نے گفتگو کے دوران کہا: بڑی تھرلنگ نیوز آ رہی ہیں۔ میں نے سوچا، کیسی عجیب بات ہے کہ انسانی واقعات لوگوں کے اندر تھرل (thrill) پیدا کر رہے ہیں۔ مگر خدائی واقعات ان کے اندر کوئی تھرل پیدا نہیں کرتے۔ لوگ مخلوقات کے کارناموں کو دیکھ کر جھوم اٹھے ہیں مگر خالق کے کارناموں کو دیکھ کر جھومنے والا کوئی نہیں۔ گراموفون کا ریکارڈ بظاہر ایک کامل خاموش تختی ہے۔ لیکن اس کے اوپر سوئی رکھ دیجیے تو اچانک وہ ایک انتہائی بولنے والی تختی بن جائے گی ۔ یہی حال موجودہ کائنات کا ہے۔ کائنات بظاہر انتہائی خاموش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ریکارڈ سے زیادہ آوازیں اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ خدا نے کمال درجہ قدرت کے ساتھ ایک انتہائی بولتی ہوئی کائنات کو ایک انتہائی خاموش کائنات میں تبدیل کر دیا ہے ۔ تا کہ اس کے سریلے نغموں کو وہی لوگ سنیں جو اس کو سننے کا حق رکھتے ہیں۔ اور جو ناکارہ لوگ ہیں وہ اس کو سننے اور جاننے سے اندھے بہرے بنے رہیں۔
آج کی دنیا کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہی اندھا پن اور بہرا پن ہے۔ کائنات خدا کا انتہائی