Al-Risala · May 2026 · page 30

Mediterranean became a Musulman lake. (Mohammed

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۳۰

کہ بعد کو اپنے دورِ زوال میں پہنچنے کی وجہ سے مسلمانوں نے یہ صلاحیت کھودی کہ وہ نئی چیزوں کو سیکھیں اور نئی تحقیقات پر دھیان دیں۔ انھوں نے ہر معاملہ میں ’’قدیم‘‘ سے جڑے رہنے کو مذہب سمجھا اور ’’جدید‘‘ سے وابستہ ہونے کو لامذہب سمجھنے لگے۔

امورِ دین(عقائد، عبادات، اخلاق)کے معاملے میں ہم کو بلاشبہ پیچھے کی طرف دیکھنا ہے۔ مگر امورِ دنیا کے معاملے میں ہم کو آگے کی طرف نظر رکھنا ہے۔ موجودہ مسلمان اس فرق کو نہ سمجھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ زمانۂ حاضر میں ایک پچھڑی ہوئی قوم بن گئے۔ (الرسالہ، اکتوبر 1992) آفاقی نقطہ نظر موت ہر ایک کے اوپر اچانک آتی ہے۔ اس بنا پر انسان مجبور ہے کہ موت کے معاملے میں غیر یقینی حالت میں جیے۔ یہ غیر یقینی حالت صرف موت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ زندگی کے ہر معاملے کے بارے میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ فطرت کے اس قانون کو وہ قبول کرے، ورنہ وہ اس معاملے میں اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔

انسان کا ہر عمل اتنا زیادہ وسیع الاطراف ہوتا ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کو ساری کائنات کی موافقت حاصل ہو۔ ساری کائنات کی کامل موافقت کے بغیر کوئی بھی انسان اپنے کسی منصوبہ کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی ہر آن عالمی نظام فطرت کے تحت سوچے ۔ وہ کبھی یہ نہ سمجھے کہ وہ اپنے محدود وسائل کے ذریعے اپنے کسی منصوبے کو بطورِ خود مکمل کر سکتا ہے۔

آدمی جب بھی کوئی منصوبہ بناتا ہے، خواہ وہ بظاہر چھوٹا ہو یا بڑا۔ لیکن وہ اپنے دائرے کے اعتبار سے عملاً ایک عالمی منصوبہ ہوتا ہے۔ پورے عالم کی مشارکت کے بغیر وہ اپنے کسی بھی منصوبے کو پورا نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر آفاقی نقطہ نظر پیدا کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page