Al-Risala · May 2026 · page 29

قدیم وجدید

الرسالہ، مئی ۲۰۲۶، صفحہ ۲۹

قدیم وجدید

ابتدائی دور میں عربوں نے عملی سائنس کو بہت کچھ ترقی دی۔ مثال کے طور پر یہ عرب ہی تھے جنہوں نے ساتویں صدی عیسوی میں سب سے پہلے قابل استعمال گھڑی تیار کی۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں اعتراف کیا ہے کہ اُس زمانہ میں دمشق میں ایک مشہور گھڑی موجود تھی ، اور اسی طرح ہارون رشید کے زمانہ کے بغداد میں :

Damascus had a famous clock and so did the Baghdad گھڑی کو مسلمانوں نے شروع کیا۔ مگر اس کو ترقی یافتہ صنعت بنانے کا تمام کام مغرب میں ہوا۔ آج یہ حال ہے کہ صرف گھڑیوں کی خریداری میں مسلم ملکوں کے کروڑوں ڈالر ہر سال مغربی دنیا میں پہنچ رہے ہیں۔ یہی معاملہ دوسری تمام جدید صنعتوں کا ہے ۔ ان صنعتوں کا آغاز کرنے والے مسلمان تھے ، مگر بعد کو وہ خود تو باہمی جھگڑوں میں پڑ گئے اور مغرب ان کی چیزوں کو لے کر ساری دنیا پر چھا گیا۔

مسلمانوں میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو مذکورہ ماضی پر فخر کرتے ہیں ۔ مگر ان میں ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو حال میں دوبارہ وہ کام کرنے کا پیغام دے جو ماضی میں قدیم مسلمانوں نے کیا تھا۔ یہ محض فخر ہے ، اور فخر کبھی عمل کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔

اسٹیم پاور سے چلنے والے جہاز کے وجود میں آنے سے پہلے تک مسلمان سمندری جہازرانی میں دنیا سے آگے تھے۔ حتیٰ کہ ایک مؤرخ کے الفاظ میں ، انھوں نے میڈیٹرینین سمندر کو عرب جھیل بنا دیا تھا :

Mediterranean became a Musulman lake. (Mohammed

مگر آج اسٹیم شپ کے دور میں مسلمانوں کی کوئی جہازراں کمپنی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2026 All issues

Printed page